بعض اوقات ایسے ایسے نو مسلمین سے رابطہ ہوتا ہے کہ انکے مختلف مسائل حل کرتے ہوئے نا صرف ایمان میں تازگی بلکہ ایک عجیب سا قلبی سکون محسوس ہوتا ہے اور بعض اوقات تو یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ ادارہ کا مقصدِ وجود پورا ہوگیا ہے۔ انہیں میں سے ایک ایسی نو مسلمہ جو کچھ روز قبل ادارہ سے منسلک ہوئی ہیں اور اس وقت مکمل طور پر ادارہ کی کفالت میں ہیں، آئیے اُن سے پوچھے جانے والے کچھ سوالات کے جوابات کی روشنی میں جو ان کی رُوداد مرتب ہو سکی اُس میں آپکو بھی شریک کرتے ہیں۔ 1991 میں نمک کی سرزمین پنڈ دادن خان میں ایک آغا خانی اسماعیلی گھرانے میں آنکھ کھولی، اپنے آبائی علاقے میں ہی تعمیر نو پبلک سکول سے میٹرک گورنمنٹ خواتین کالج سے، FScالبیرونی کالج سے BSc کے بعداسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے MSc + MPhil کیا۔ میرے آبا و اجداد پچھلی چار پانچ پشتوں سے یہاں آباد چلے آ رہے ہیں جبکہ انکے آغا خانی مذہب کو قبول کرنے کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہے۔ آغا خانی مذہب کو قریب سے دیکھنے اور اچھی طرح سمجھنے کے موقع اس لئے بھی میسر رہے کہ ایک تو گھر کا ماحول خالص اسماعیلی، آغا خانی مذہب کے مطابق تھا اور گھر سے تیسری عمارت جماعت خانہ کی تھی جو کہ آغا خانی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ مزید یہ کہ تقریباً بارہ سال تک امی ابو اسی جماعت خانہ میں مکھی اور مکھیانی( مذہبی پیشوا ) کے فرائض بھی سر انجام دے رہے تھے لہٰذا مذکورہ حالات اور تعلیم و تربیت سے جو عام تاثر ذہن میں قائم ہو چکا تھا وہ یہ تھا کہ اس قرہِ ارض پر آغا خانی، اسماعیلی ہی وہ جماعت ہے جو صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق عمل پیرا ہے باقی سب گمراہ ہیں۔ اسی لئے ہمیشہ یہ سوچتی تھی کہ مجھے نا صرف ایک با عمل آغا خانی بننا ہے بلکہ آغا خانی مذہب کی دعوت و تبلیغ بھی کرنی ہے تاکہ لوگوں کو آتشِ جہنم سے بچا سکوں۔ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کے سفر میں ایک بات جسکا احساس شدت سے ہوتا رہا وہ یہ تھا کہ اگر ہم یعنی آغا خانی اسماعیلی ہی حق پر ہیں تو ہمیں اپنا مذہب چھپانے کی تعلیم کیوں دی جاتی ہے؟ اور کیوں کہا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو معاشرے میں عام مسلمانوں کی طرح ظاہر کریں جبکہ پسِ پشت اسلام اور ہم میں یعنی آغا خانی مذہب میں زمین و آسمان کا فرق تھا اس دو رنگی نے میرے اندر ایک ایسا ڈر پیدا کردیا تھا جس سے نا صرف میں اندر سے توڑ پھوڑ کا شکار ہو چکی تھی بلکہ اس ڈر، خوف اور دو رنگی سے بچنے کے لئے مالکِ کائنات سے ہمیشہ دعائیں بھی کرتی رہتی تھی۔ میری زندگی کے چندایک اہم واقعات جنہوں نے مجھے آغا خانی مذہب کو پوری سنجیدگی سے سمجھنے پر مجبور کیا FSc کے دوران میں نے کالج کی لڑکیوں کو پردہ میں ملبوس دیکھتی تو مجھے بہت اچھا لگتا خاص طور پر اپنی کلاس فیلو کی بڑی بہن جو اکثر ہمارے ساتھ کالج آتی جاتی تھیں میرے پوچھنے پر انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں پردہ کے متعلق اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جس کے بعد میں نے بھی باقاعدہ پردہ شروع کردیا۔ جس سے میں اپنے آپ کو نہایت محفوظ تصور کرتی تھی۔ مگر یہ بات میرے گھر والوں کو بہت معیوب لگی جس پر خوب پر شور و غل بھی کیا گیا اور اس کے بعد مجھے حکماً پردہ کرنے سے روک دیا گیا۔ گھر والوں کی یہ حرکت میرے لئے نہایت تعجب کی بات تھی۔ آغا خانی دعوٰی تو یہ کرتے ہیں کہ صحیح مومن ہم ہیں مگر اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کے بجائے نافرمانی کا حکم دیا جارہا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایک بار دوران FSC اسلامیات کا پیریڈ کے اختتام پر ایک لڑکی نے سوال کیا کہ کیا ‘‘آغا خانی اسماعیلی مسلمان ہیں’’ میری زندگی میں پہلی بار میرے کانوں نے ایسا سوال سنا تھا میرا خیال تھا کہ میڈم کچھ دیر توقف کریں گی پھر آئیں بائیں شائیں کریں گی کچھ خامیاں بتاکر کہیں گی کہ جیسے اہلحدیث، دیو بندی، بریلوی اور شعیہ کا اختلاف ہے انکا بھی کچھ اسی طرح کا معاملہ ہے۔ لیکن جب میڈم نے بغیر کسی تردد و توقف اور پورے اعتماد سے یہ جواب دیا کہ آغا خانی اسماعیلی مسلمان نہیں ہیں، یہ اپنے عقائد، عبادات اور رسومات کی وجہ سے کافر ہیں تو ایک لمحہ میں ہی نا صرف میری ساری توقعات پر پانی پھرگیا بلکہ میرے شکوک و شبہات کی دیوار کو ایک اور دھکا لگا جس کے بعد میں نے باقاعدہ آغا خانیت اور اسلام کا تقابلی مطالعہ شروع کر دیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ واقعی آغا خانی اسماعیلی مذہب کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ یہ اپنی ذات میں ایک بالکل الگ اور مختلف مذہب ہے مندرجہ ذیل ایک مختصر تقابلی خاکہ پیش خدمت ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ موصوفہ اپنے دعوے میں کس حد تک دلیل بھی رکھتی ہے۔ اسلام میں عقیدہ توحید یعنی اللہ وحدہ لا شریک ہے ہر نفع و نقصان کا مالک سب کو اسی نے پیدا کیا ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہےاور یوم حشر میں جزا اور سزا کا حاکم بھی صرف اللہ ہی کو ہوگا۔ جبکہ آغا خانی مذہب میں مندرجہ بالا اور اسکے علاوہ تمام اوصاف کا حامل حاضر امام پرنس کریم آغا خان ہے معاذاللہ وہ بذاتِ خود اس بات کا برملا اعلان کرچکا ہے کہ میں اللہ کا مظہر ہوں۔ انکا یہ بھی عقیدہ ہے کہ امامت کا درجہ نبوت سے بڑھ کر ہے کیونکہ امام خدا میں حلول کر گیا ہے جسکی وجہ سے وہ خدا ہی ہے یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی قوم امام کو سجدہ بھی کرتے ہیں۔ اسلام میں طریقہِ رسول پر دن میں با وضو پنج گانہ نماز ادا کرنا فرض ہے،جبکہ آغا خانی مذہب میں غسل، طہارت اور وضو کا کوئی تصور ہی نہیں اِنکا کہنا ہے کہ چونکہ ہم اپنے باطن کو پاک کرلیتے ہیں اس لئے ظاہر کی کوئی اہمیت نہیں۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی فرضیت کے اسماعیلی لوگ سرے سے قائل ہی نہیں مسجد کی جگہ جماعت خانے ہوتے ہیں نماز میں تکبیر اولیٰ، سورہ فاتحہ، التحیات، قیام، سجدہ رقوع کی جگہ خاص طرح کی دعاؤں کو پڑھا جاتا ہےاور پھر حاضر امام پرنس کریم آغا خان سے مناجات کی جاتی ہیں۔ گنان یعنی گیت مختلف زبانوں میں ایک خاص طرز پہ گائے جاتے ہیں اور پھر آخر میں حاضر امام کا فرمان پڑھا جاتا ہے جوکہ ہر چاند رات کو جاری ہوتا ہے۔ مختلف موقعوں، اوقات اور درجات کی مجالس: 1 ۔نویں کی مجلس 2 ۔لائف کی مجلس 3 ۔نورانی مجلس اور فدائین کی مجلس جبکہ بعض بڑی مجالس میں زیادہ پیسے ادا کرکے داخلہ ملتا ہے۔ جس میں اکثر غریب اسماعیلی داخلہ سے محروم ہی رہ جاتے ہیں یا پھر ایک بار داخلہ کے لئے اپنی ساری جمع پونجی جماعت کو ادا کردیتے ہیں ویسے بھی آغا خانی اسماعیلی مذہبی عبادات میں پیسے کا کافی عمل دخل ہے۔ عبادت کے لئے، گناہوں کی معافی کے لئے، دعا کروانے کے لئےاور مہمانی یعنی زندہ و مردوں کو بخشوانے کے لئےاور امام سے ایک بول یعنی اسم اعظم کے لئے پیسے دئیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ ناندی کا تصور جس میں ہرآغا خانی اسماعیلی اپنے گھر سے زیور، کھانا اور قیمتی کپڑے لا کر جماعت خانے میں رکھ دیتا ہے۔ جماعت خانہ کی کارروائی کے بعد ہر ایک کی اشیاء کی بولی لگتی ہےاور زیادہ پیسے دینے والے کو وہ اشیاء دیدیں جاتی ہیں۔ اس سے ہونے والی آمدن غریبوں میں نہیں بلکہ جماعت خانہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی جاتی ہے۔ آغا خانی مذہب میں زکوٰۃ کی جگہ دسوند دیا جاتا ہے جو کہ ماہانہ آمدن کا دسواں حصہ ہے۔ آغا خانی مذہب میں حاضر امام کی زیارت ہی حجِ بیت اللہ ہے۔ توبہ، استغفار اور اللہ سے معافی مانگنے کی بجائے پیسے دیکر مکھی اور مکھیانی( پیش امام ) سےفرانسیسی پانی کے چھینٹے مرواکر گناہوں سے نجات حاصل کی جاتی ہے۔ میرے لئے یہ بھی ایک حیران کن بات تھی کہ جماعت خانہ کی مجلس میں فرمان پڑھ کر سنایا جارہا تھا کہ آج کے بعد آغا خانی بھی نکاح باقاعدہ طریقہِ اسلام کے مطابق ادا کریں گے جبکہ اس سے پہلے آغا خانی جماعت میں نکاح کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ آغا خانیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ قرآن ساری انسانیت اور ہمیشہ کے لئے نہیں آیا بلکہ خاص قوم و مخصوص وقت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اسماعیلی جماعت کا یہ بھی ایمان ہے کہ پرنس کریم آغا خان جس کے گناہ معاف کردے اس سے روزِ حشر میں بھی حساب نہیں ہوگا۔ اللہ کا حرام کردہ سود ایک زمانہ ہوا حاضر امام اسکو حلال قرار دےچکے ہیں۔ اسماعیلیوں کے حاضر امام پرنس کریم آغا خان کی اپنی غیر اخلاقی حرکات و سکنات انکا ذاتی معاملہ ہے مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس نے ایک ایسی عورت سے شادی کی جو فحش فلموں میں کام کرنے والی ایکٹر اور بعد از طلاق پھر عیسائی ہوگئی، مجھے پرنس کے اپنے بیٹے کے gay ہونے پر بھی کوئی عتراض نہیں،میرا اس بات سے بھی کچھ لینا دینا نہیں کہ اسماعیلی امام کی اپنی بیٹی نے ایک کرسچن مشنری شخص سے شادی کرلی۔ میرا اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایک ایسے شخص کو میں کیسے خدا، مظہرِ خدا، نور اللہ، چلتا پھرتا قرآن، انسانیت کا ھادی و رہبر، شریعت ساز، یا حاضر امام مان لوں کہ جو شخص وقار، کردار، حیا اور شرافت جیسی اوصاف سے بھی محروم ہو۔ یہ ہیں وہ مندرجہ بالا تعلیمات، عقائد، اور نظریات جنہوں نے مجھے اپنے آبائی مذہب سے بیزار کردیا۔ اسکے بعد جماعت خانہ کی ہر طرح کی مذہبی سرگرمیوں میں شرکت سے گریز کرتی، مگر بعض اوقات گھر والے زبردستی ساتھ لیجاتے، پردے کی مخالفت ہوتی لیکن جہاں ممکن ہوتا کرتی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی میرے خاندان میں شادی طے ہوچکی تھی اب تو بس ہر وقت اللہ سے یہی دعا کرتی تھی کہ اللہ یا تو آپ میرے گھرانے کو بھی ایمان عطا فرمادے یا میرے لئے کوئی ایسا انتظام فرمائیں کہ میں آپکے دین پر پوری آزادی سے عمل پیرا ہوسکوں۔ میں نے کافی علماء و اداروں سے بات کی مگر یا تو وہ آغا خانیت کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرنا چاہتے تھے یا پھر انکے اداروں میں میرے جیسی لڑکیوں کے لئے رہائش، تعلیم و قانونی چارہ جوئی کا کوئی انتظام نہ تھا یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہوچکی تھی اب گھر جانا تھا اور واپسی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس دوران میں ایک مدرسہ سے بھی منسلک ہوچکی تھی جہاں شام کے کچھ اوقات میں دینی علوم حاصل کررہی تھی۔ اللہ استاد محترم کو جزائے خیر عطا فرمائے جنکے توسط سے نا صرف دین کی اصل روح کو سمجھنے میں مدد ملی بلکہ انکی معاونت سے حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن( سنٹر فار نیو مسلم ) ایک ایسی آرگنائزیشن سے رابطہ بھی ممکن ہو سکا جسکی مجھے 2011 سے تلاش تھی۔ بھائی عبد الوارث سے ملاقات کرکے ساری صورتحال واضح کی گو کہ میرا معاملہ دوسرے نو مسلموں سے مختلف ہی نہیں بلکہ پر خطر بھی تھا مگر ان اللہ کے بندوں نے بغیر کسی خوف و ڈر کے شرعی و قانونی دائرہِ کار میں رہتے ہوئے ہرطرح سے تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر میں اپنے رب کی بے پناہ شکر گزار ہوں۔ میں امتحانات کے بعد گھر جاچکی تھی میرے لئے گھر سے نکلنے کا اب کوئی اور موقع نہیں تھا ماسوائے یونیورسٹی سے سند لینے کے۔ ہستا بستا گھر ماں باپ کی شفقت، اور ساری زندگی کے احسانات، بہن بھائیوں کا ساتھ، پیار اور شرارتیں گھر کی در و دیوار جس پر بچپن کی یادیں چسپاں تھی وہ آنگن جہاں میں نے چلنا سیکھا۔ خاندان کے سب لوگ سکھیاں، سہیلیاں، وہ کالج کا رستہ، کتابیں وہ بستہ، محلہ و گلیاں، وہ گنچہ وہ کلیاں، وہ شہر، وہ ہوا و فضا سب کچھ اپنے پیارے اللہ کے دین کی خاطر قربان کردیا اور 3مارچ 2017 کو پنڈ دادن خان سے اسلام آباد اور وہاں سے لاہور ہجرت کر آئی۔ یہاں پہنچتے ہی بھائی عبد الوارث نے میری درخواست پر فوری میری رہائش و تعلیم کا سلسلہ جاری کردیا۔ مزید آغا خانی کمیونٹی و خاندان سے خطرات کے پیش نظر سیشن و ہائی کورٹ اور قانونی کاروائی کرکے جانی و ایمانی تحفظات کو بھی یقینی بنادیا۔ خاندان و آغا خانی جماعت کی طرف سے مختلف سرکاری افسران کے ذریعہ حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن کے حضرات کو خصوصاً بھائی عبدالوارث کو پریشرآئیز بھی کیا گیا۔ جب کچھ نہ بن سکا تو جماعت نے وزارت داخلہ کو ایک جھوٹ پر مبنی درخواست دی کہ حقوق الناس کا کالعدم تنظیموں سے تعلق ہے اور ہماری لڑکی کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ جس کے بعد سرکاری اداروں کی طرف سے تحقیقات کا ایک سلسلہ جاری ہوگیا۔ حقوق الناس کے جنرل سیکرٹری بھائی عبد الوارث اور مجھ سے پوچھ گچھ کے بعد ایجنسیز نے جب دیکھا کہ تمام معاملات حکومت پاکستان کے قانون کے مطابق ہیں اور میں اپنی آزاد مرضی سے ادارہ میں پناہ گزیں ہوں تو نا صرف حقوق الناس کو مکمل طور پر کلئیر قرار دیا بلکہ مجھے بھی آغا خانی کمیونٹی سے مکمل طور پر تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی جس پر میں اپنے سرکاری اداروں کی بھی نہایت مشکور ہوں۔ میں حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تمام ذمہ داران کی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے میری مکمل ذمہ داری اٹھاتے ہوئے ایسی جگہ پر تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جہاں مدرسہ کی آپی جان کی صورت میں ماں کا پیار، بہنوں جیسی ٹیچر اور خیال رکھنے اور پیار کرنے والی ہم جماعت سہیلیاں مل گئیں۔ حقوق الناس کے تمام معاونین کے لئے اور خصوصاً بھائی عبدالوارث کے لئے دعا ہے کہ اللہ انکی حفاظت فرمائے اور انکے کام میں بہت برکت عطا فرمائے تاکہ یہ میری جیسی بیٹیوں کے سر پہ دستِ شفقت رکھ سکیں میں اپنے تمام اساتذہ یونیورسٹی کی فرینڈز اور اپنے سرکاری اداروں کے ان افسران کی بھی ممنون ہو جنہوں نے راہ حق میں ہر آنے والی مشکل میں میرا ساتھ دیا۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اسلام کی ایسی قدر کرنے کی توفیق عطا فرماویں جیسی قدر کرنے کا حق ہے۔ میرے اللہ تجھے پایا تو دل کو چین ملا اِک زمانےسے میری روح تیری تلاش میں تھی بقلم عبدالوارث گِل

Categories: Article's