میں اپنے اور اپنے جیسے دیگر نو مسلموں کے بارے میں جب سوچتا ہوں تو بے ساختہ دل سے آواز آتی ہے کہ ابھی مسلم معاشرہ زندہ ہے ۔ پچھلے دِنوں کشمیر کی ایک نو مسلم بیٹی کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا۔ شاید اُس کی چند سطروں کا قرض باقی تھا جو ذہن میں اب تلک زیرِ گردش ہیں۔ وادیِ کشمیر میں پیدا ہونے والی مریم نے والدین کے دست شفقت اور خالص قدرتی ماحول میں پرورش پائی جہاں ماں کی ممتا باپ کی شفقت بھائیوں کی مضبوط باہوں کا حصار اور بہنوں کی کھٹی میٹھی دوستی، گویا کہ دنیا کی ہر نعمت ہی اسکے پاس تھی ماسوائے نعمت اسلام کے۔ جبکہ سکول کالج کے باقی ماندہ نصاب و اساتذہ کی محبت و شفقت سے یہ خلا بھی پورا ہونا مقدر میں طے پاچکا تھا مگر ذرا اس شعر کے مصداق۔۔۔ ؎ یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے یا شاید اس بھی تھوڑا مشکل۔ جب مریم اپنی شعوری دور میں داخل ہوئی تو زندگی موت، جنت دوخ، وجودِ باری تعالیٰ، و مقصدِ کائنات ترجیحی سوالات کی صورت اختیار کر نے لگے۔ اسلام کے گہرے مطالعہ کے بعد قبول اسلام میں کوئی چیز مانع نہ رہی، اسلام قبول کیا تو حالات یکسر بدل گئے، صبح گھر سے ناشتہ کرکےجانے والی مریم نہیں جانتی تھی کہ آج واپس گھر جاکر ماں کے ہاتھوں کی گرم روٹی ملے گی یا اس مالکان کائنات سے عہد و پیماں کے بعد بطور امتحان تھانہ کچہری اور پھر دار الامان میں دال روٹی؟ اللہ کے امتحان بھی عجیب ہیں ایسے موقع پر اکثرماں باپ کی محبت نفرت اور بہن بھائیوں کا پیار غضب میں تبدیل ہوجایا کرتا ہے محض اس ایک اللہ پر ایمان لانے پر جس نے پوری کائنات کو وجود بخشا ہے۔ جب اپنے ہی دشمنی پر اتر آئے تو کوئی چارہ نہ رہا ماسوائے اسکی شادی کردینے کے۔ بعد از نکاح کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ گھریلو ناچاقیاں شروع ہوگئیں۔ ابھی ہاتھ کی مہندی بھی ہلکی نہ ہو پائی تھی کہ ماں کا انتقال ہو گیا، قیامت در قیامت ۔۔۔ ابھی ماں کا کفن بھی میلا نہ ہوا تھا کہ شوہر نے طلاق دے دی اور اس بندہِ خدا کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ اس چھ ماں کی معصوم جان جو کہ ابھی ماں کے پیٹ میں نشو نما پارہی ہے اس کو لے کر یہ حوّا کی بیٹی کہاں زمانے کی خاک چھانتی پھرے گی اور پھر مریم پر جو گزری وہ مریم جانتی ہے یا اسکا خدا۔ بعد از طلاق والدین کے گھر کے علاوہ کہاں جاتی؟ باوجود اس کے کہ انکے رویے یکسر بدل چکے تھے جیسے کیسے بیٹی کی ولادت ہوئی، اس دوران گھر والوں نے تبدیلی مذہب پر خوب اکسایا۔ جب یہ کفر پر راضی نہ ہوئی اور محسوس کیا کہ اس کو اور اس کی پری جیسی معصوم بچی کو جان کا خطرہ ہے تو وہاں سے بھی فرار حاصل کیا۔ مریم کا سابقہ شوہر پیدا ہونے والی بیٹی کو دیکھنے کو بھی تیار نہ تھا۔ باپ، بھائی، اور شوہر سب اجنبی بن چکے تھے۔ محافظ نہ کوئی کفیل، سر چھپانے کو گھر نہ کوئی نوکری کہ محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹی کا پیٹ پال سکتی۔ ماسوائے پاؤں تلے ارضِ پاک اس میں دفن تمام خزانے اور سر پر کھلا آسمان بمع چاند تارے۔ حالات کا دھارا ایک سہیلی کی طرف لے گیا اور وہاں سے ایک ڈاکٹر صاحبہ کی طرف جن کے ہاں چند روز قیام کے بعد مریم کا رزق اسکو ملتان کھینچ لایا۔ جہاں ایک معروف تعلیمی ادارے میں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہیں، وہاں سے جب دانہ پانی ختم ہوا تو انہوں نے بھی یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ آپکی بیٹی ابھی چھوٹی ہے جس بنا پر آپ مزید اس ادارے میں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں۔ پھر جب مریم کا حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن سے رابطہ ہواتو تب تک زمانے کی ٹھوکریں کھا کر یہ اتنا پختہ ہو چکی تھی کہ جیسے بھٹے میں جلنے کے بعد اینٹ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب مریم وارث سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے تسلی دیتے ہوئے صبر اور استقامت کی نصیحت کی تو اِس پر اُس اللہ کی بندی نے کہا کہ میرے اللہ کا سب سے بڑا فضل مجھ پر یہی ہے کہ اس نے مجھے صبر اور استقامت سے نواز رکھا ہے، جس پر میں اُس کا جتنا شکرادا کروں کم ہے وگرنہ مسائل نے ہر چار سُو گھیر رکھا تھا۔ میں نے پوچھا میں آپکے لئے کیا کرسکتا ہوں؟ تو کہنے لگی عبدالوارث اگر آپ میری رہائش اور نوکری کا بندوبست کر دیں تو میر ی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔ میں چاہتا تھا کہ یہ کسی انسٹیٹیوٹ میں رہے تا کہ تعلیم حاصل کرے، مگر بچی کے ساتھ نہ کوئی انسٹیٹیوٹ میں رکھنے کے لئے تیار تھا نہ کوئی نوکری پر۔ ایک علیحدہ گھر لے کر دینا کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر اس معاشرے میں اور وہ بھی ایسی خاتون جو بالکل تنہا ہو نہایت نا مناسب تھا لیکن معقول موقع کے لئے اللہ سے دعائیں اور کوششیں کرتے رہے۔ ہمارے ایک نہایت پُر خلوص بھائی آصف ملک صاحب کو یوتھ کلب کی افطار پارٹی میں اِس ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو انہوں نے ہمارے ایک مشترکہ دوست سے بات کرنے کو کہا۔ اتفاق سے اس دعوت میں وہ بھی تشریف لے آئے تو میں نے ان سے ساری بات کی اور ملاقات کا وقت متعین ہوا۔ دوران ملاقات انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے گزارش کی کہ مریم کے لئے رہائش ، نوکری بمع ایک ننھی بچی کے۔ بھائی نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کرنے کے بعد یہ خوشخبر ی سنائی کہ ہم انکو اپنے ہاں رہائش و نوکری دینے کے لئے تیار ہیں جبکہ میں اسکی بالکل بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔ مجھے نہیں پتا کہ مریم ان کے ادارہ میں ملازمت کے معیارات پر پورا اترتی تھی یا نہیں مگر آخرت کی کامیابی کے لئے اس نو مسلم بہن کی کفالت کا سودا کوئی مہنگا سودا نہ تھا۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے ایسے لوگوں کے یہاں مریم کی رہائش و نوکری کا بندوبست کروادیا جو امت کی آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت میں ہمہ تن، ہمہ وقت، ہمہ جہت پورا گھرانہ ہی سرگرم عمل ہے۔ مجھے میرے اس محسن نے اپنا نام بتانے سے منع نہ کیا ہوتا تو کھلے لفظوں ان کا تذکرہ کرتا۔ اس بہن کے صبر و استقامت کا اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ انعام عطا کیا کہ نہ صرف نوکری، رہائش، تعلیم کا مناسب انتظام بلکہ پورے کا پورا گھرانہ ہی مِل گیا۔ پچھلے دنوں میں نے پوچھا کہ مریم آپ کے معاملات کیسے چل رہے ہیں؟ تو کہنے لگی کہ اللہ کا شکر ہے ہر چیز سے اللہ نے نوازا ہے بلکہ میں اپنی بیٹی کے لئے اپنے پیسوں سے کوئی چیز منگوا لوں تو گھر والےمجھ سے خفا ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب ہمارے ذِمّے ہے میں نے کہا کہ آپ ان کو یہ سب کرنے دیں کیونکہ ہم سب لالچی ہیں اور وہ لالچ جنت میں جانے کا لالچ ہے جو ہمیں بے دریغ محنت سے کمایا ہوا مال خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کہنے لگی عبدالوارث صاحب اللہ نے یہ گھر، گھرانہ اور اچھی جاب دے کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ یہ بات مریم نے اُن کے بارے میں کہی جن کے پاس مریم جاب کر رہی ہے و رہائش پذیر ہیں ۔ ایک دن اُن بھائی کے ہاں دعوت پر جانا ہوا تو وہ مجھے دوستوں سے الگ کر کے کہنے لگے کہ بھائی آپ سے ایک بات کرنی ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے بھی آپ سے بات کرنی ہے۔ میں کہنے ہی والا تھاکہ مریم کے معاملات ٹھیک چل رہے ہیں؟ کوئی شکایت تو نہیں ہے؟ مگر میرے کہنے سے پہلے ہی وہ گویا ہوئے کہ مریم کو یہاں کوئی مسئلہ یا کوئی شکایت تو نہیں؟ یہ الفاظ سنتے ہی میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور بے اختیار ان کے سینے سے لگ کر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھرانے پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین۔ اسی احساس کے پیش نظر میں کہتا ہوں کہ ابھی مسلم معاشرہ زندہ ہے، اس نے احکامات الٰہی کو پس پشت نہیں ڈالا، ابھی سنت نبویؐ پر مر مٹنے کی تمنا زندہ ہے، ابھی انصار مدینہ کی مواخات ہم بھولے نہیں ہیں، ابھی ہمیں اپنے اسلاف کی روایات یاد ہیں، ابھی اسکے تِلوں میں تیل باقی ہے، ابھی اِسکے سینے میں ایمان کا نور موجود ہے۔ پیاسوں کو پلانا بھوکوں کو کھلانا گِرتوں کو اُٹھانا، یہ شیوہِ مسلم ابھی باقی ہے۔ ابھی اسلام میں آنے والوں کو سینے سے لگانا، اِنکے لئے ہر مشکل سے ٹکرانا، ہماری فطرت میں کم ہی سہی مگر باقی ہے۔ تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's