اس کرہ ارض پر اللہ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری دنیا کے نہیں فقط اللہ سبحان و تعالٰی نے انکو اپنے بندوں کی مدد و رہنمائی کے لئے اس دنیا میں بیجھ رکھا ہے مسٹر اینڈ مسسز خواجہ کاشف الٰہی بھی شاید انہیں لوگوں میں سے ایک ہیں مجھے نہیں پتہ کہ وہ اپنی کاروباری مصروفیت کے باعث اپنے بچوں کو بھی صحیح طرح سے وقت دے پاتے ہوں گے یا نہیں مگر امتِ مسلمہ کے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں کھپا رہے ہیں نظامِ تعلیم یعنی ارقم اسکول کو مسجد سے منسلک کرکے نا صرف اصحابِ صفہ کی سنت کو زندہ کیا بلکہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کو بھی احسن طریقے سے پورا کررہے ہیں یہ دنیا کو صرف ڈاکٹر، انجنئیر، اور سکالر ہی نہیں بلکہ دنیا کو مسلمان ڈاکٹر، انجینئر اور بہترین مسلم سکالرز دینا چاہتے ہیں تاکہ رضائے الٰہی اور اخروی نجات سے ہمکنار ہو سکیں یہی انکا خواب ہے جو اب انکو سونے نہیں دے رہا. اسی اسکول کے اینول سپورٹ ڈے میں چند دن قبل شرکت کا موقع ملا جس میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں دلچسپی، لگن، محنت، آگے بڑھنے اور کچھ کرگزر نے کا جذبہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی پروگرام کے اختتام پر عاجز نے طالبِ علم اور انکے والدین کی خدمت میں چند ایک گزارشات پیش کیں اسکول کی جانب سے ایک خوبصورت شیلڈ وصول کی انعامات تقسیم کئے سب کا شکریہ ادا کیا، اجازت لی اور آفس کی طرف چل دیا- آج کے اس پروگرام میں میری بطور چیف گیسٹ شرکت نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا کہ میں آخر کون ہوں؟ جسے آج مساجد و مدارس، سکول کالج یونیورسٹیوں میں اپنی روئداد، اور خطبات کے لئے مدعو کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک بار شہرِ مدینہ کی یونیورسٹی اور مسجد میں خطبہ جمعہ کی بھی سعادت نصیب ہو چکی ہے قصّہ مختصر یہ ہے کہ جسکی عقل ہے نا شکل علم ہے نا ہنر وہ آج مہمانِ خصوصی بنا بیٹھا ہے کیا میں وہی شخص نہیں کہ جسے اسلام قبول کرنے سے پہلے برف والا اپنے برف کے پھٹے کے ساتھ بھی نہیں لگنے دیتا تھا تندور والا تندور پر بیٹھنے سے منع کردیا کرتا تھا! انہیں سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ایک گمنام شاعر کا ایک شعر قلب و جگر پر رقص کرنے لگا…. جب تک بکے نا تھے تو کوئی پوچھتا نا تھا تم نے خرید کر مجھے انمول کردیا اور پھر اللہ جی کی طرف سے ہدایت و صراط مستقیم کا احسانِ عظیم ظاہر و باطن پر غالب آگیا یقینن یہ اخلاص اور صدقِ دل سے کفر سے اسلام میں آنے کا نقد انعام ہے اسلام میں نئے آنے والوں کو یہ امت ہمیشہ صفِ اول میں ہی کھڑا کرتی ہے مذاہبِ عالم میں یہ اعزاز صرف اسلام ہی کو حاصل ہے قرآن مجید کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ جو لوگ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاتے ہیں اللہ انکے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا فرمادیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ حلقہ بگوشِ اسلام ہونے والوں کو مسلمان اپنے سے زیادہ عزت اور اپنوں سے زیادہ پیار دیتے ہیں. میں یہ بات پورے وثوق سے اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آپ نے مواخاتِ مدینہ پڑھی ہوگی میں نے مواخاتِ مسلم دیکھی ہے. تخریب حسیں کردیتی ہے تعمیر کے نقشِ ناقص کو بت خانے کی قسمت کیا کہئیے اجڑے تو حرم بن جاتا ہے عاجز عبد الوارث

Categories: Article's