تحریر ایک نو مسلم کے قلم سے. آج استادِ محترم مفتی محمد حسن صاحب دامت برکاتہ کے یہاں جانا ہوا تو راستہ میں اچانک یاد آیا کہ میرے محسن بھائی شوکت جوکہ عرصہ دراز سے بیرون ملک میں مقیم ہیں اکثر ان سے دعا کروانے کا کہتے رہتے ہیں تو ان کو میسج کیا کہ کوئی کام یا پیغام ہو تو بتادیجئیے عاجز استاد محترم کے یہاں جارہا ہے تو جواب آیا کہ بس دعا کروادیجئیے گا. استاد جی سے بہت ساری دعائیں اور خیر و برکات سمیٹنے کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ بعد جب واپس آرہا تھا تو موبائل دیکھا تو اب شوکت بھائی کا پوری وضاحت کے ساتھ میسج ملا کہ بس دعا کروادیجئیے گا کہ اللہ تعالیٰ زندگی اور عبادات میں یقین اور یکسوئی عطاء فرمائے یہ جملہ پڑھنے کی دیر تھی کہ میرے تن بدن میں ایک سرد لہر سی دوڑگئی ذرا سا توقف کیا اور ظاہر و باطن، ماضی، حال، معمولات و معاملاتِ زندگی اور حیات پریشاں کے شب و روز میں بلا کی بد نظمی بے چینی، اضطراب زلت و رسوائی چیخ چیخ کر پکار رہی تھیں کہ ہمارا تو وجود ہی وہاں ہوتا ہے جہاں ڈر خوف، مایوسی اور بے یقینی ہوتی ہے. اقبال پوچھتے ہیں ہیں آج کیوں زلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخِ فرشتہ ہماری جناب میں تو اندر سے آواز آئی کیونکہ آج ہم اشارے پر تو رک جاتے ہیں کہ کیمرا لگا ہوا ہےمگر گناہوں سے باز نہیں آتے با وجود اسکے کہ اللہ سمیع و بصیر ہے کیوں؟ کیونکہ یقین کے برتن میں سوراخ ہوچکا ہے. ڈاکٹر کہہ کہ روٹی کھانا چھوڑ دو وگرنہ مرض اور بڑھ جاوے گا تو روٹی، پانی. ٹھنڈا گرم سب چھوڑ دیں گے مگر اللہ کا قرآن کہہ کہ اللہ کی نافرمانی والے کاموں سے باز آجاؤ تو موت کے ڈر سے کھانا پینا تو چھوڑ دیتے ہیں مگر اللہ کے ڈر سے گناہ نہیں چھوڑتے کیوں؟ کیونکہ یقین والا خانہ میلا ہوچکا ہے رات کی تاریکی میں سجدہ ریز ہوکر اللہ سے مانگنا کتنا مشکل لگتا ہے مگر مال دار اور اسکے مال پر اتنا یقین ہے کہ اس سے مانگنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کیوں؟ کیونکہ آئینہ یقین دھندلا بلکہ سیاہ ہو چکا اقبال کہتے ہیں وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات میرے اللہ جی مجھے بھی اس گاؤں کی بوڑھی ماں جیسا یقین عطاء فرمائے جسکے بیٹے نے اپنے باپ کی میت پر پریشانی کے عالم میں اپنی ماں سے کہا تھا کہ ماں رزق کمانے والا تو مرگیا اب ہمارا کیا ہوگا تو ماں نے کہا بیٹا رزق کھانے والا مرا ہے رزق دینے والا تو الحئ ہے خضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک رات مدینہ کا گشت کرتے کرتے تھک گئے تو ایک مکان کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ گھر کے اندر سے دو عورتوں (ماں بیٹی) کی آوازیں آرہی تھیں۔ ماں بیٹی کو ترغیب دے رہی تھی کہ دودھ میں پانی ملا دے تاکہ دودھ کے زیادہ پیسے ملیں۔ بیٹی نے جواب میں کہا کہ ماں میں دودھ میں پانی نہیں ملاؤں گی کیونکہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیا ہے۔ اس پر ماں نے بیٹی کو ڈانٹ کر کہا کہ اری او نیک بخت دودھ میں پانی ملادے یہاں کونسا عمر رضی اللہ عنہ دیکھ رہا ہے لڑکی نے جواب دیا کہ ماں اگر امیرالمومنین نہیں دیکھ رہا تو کیا ہوا امیر المومنین کا رب تو دیکھ رہا ہے. ايک دن سب گاؤں والوں نے مل کر فيصلہ کيا کہ بہ سبب خشک سالی نماز استسقاء کسی کھلے میدان میں ادا کرتے ہیں کہ اللہ بارش برساویں سب میدان کی طرف جوق در جوق جارہے تھے کہ ایک بچے نے گھر سے نکلتے ہوئے اپنے ساتھ چھتری بھی لے لی…. واللہِ اسی کو یقین، بھروسہ ور توکل کہتے ہیں. یوں لگ رہا تھا کہ جیسے شوکت بھائی کہہ رہے ہوں کہ بھائی تمام معاملاتِ دینہ و اعمالِ صالحہ مردہ ہوچکے ہیں دعا کروائیے گا کہ اللہ ان میں روح عطاء فرمادیں. با الفاظِ دیگر اذانیں رہ گئی روحِ بلالی نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نا رہی عاجز عبد الوارث

Categories: Article's