جس سندھ کو 17 سال کے سپہ سالار نے اسلام کا قلعہ بنایا تھا آج اسی سندھ میں اسلام قبول کرنے کے لیے اٹھارہ سال کا ہونا شرط ہے! اسلام دشمنی میں صف اوّل کے 10 ممالک کا انتخاب کیا جائے تو وہاں پر بھی ایسا قانون نہیں ملے گا جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صوبہ سندھ کی اسمبلی سے ایک بل میں پاس ہوا ہے جس کے چند ایک نکات مندرجہ ذیل پیش خدمت ہیں۔ 1. 18 سال سے کم عمر لوگوں کے لیے اسلام قبول کرنا قانوناً جرم ہے۔ 2. اگر 18 سال سے کم عمر کے لوگ اسلام قبول کر بھی لیں تو ریاست میں انہیں غیر مسلم ہی تصور کیا جائے گا۔ 3. 18 سال سے زیادہ عمر والے حضرات و خواتین اپنے اسلام لانے کا مخصوص لوگوں کے سامنے اعلان کریں گے اور پھر 21 دن تک انہیں ایک ایسے سیف ہاؤس میں رکھا جائے گا جہاں اُنہیں مختلف مذاہب کا لٹریچر دیا جائے گا تاکہ بعد از مطالعہ وہ اپنے اس ارادے پر غور و فکر کر لیں۔ 4. 18 سال سے کم عمر والے حضرات و خواتین کو اسلام کی دعوت و تبلیغ، کلمہ پڑھانے یا مسلمان کرنے کے حوالے سے کسی طرح کی سہولت فراہم کرنے والے کو عمر قید یا پانچ سال قید با مشقت کی سزا دی جائے گی۔ 5. اسلام قبول کرنے والے 18 سال سے کم عمر اشخاص کو انکے والدین کے حوالے ہی کیا جائےگا۔ 6. اسلام قبول کر کے شادی بھی قانوناً جرم ہوگی جبکہ نکاح خواں کو تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہ دین” دینِ سندھ” نہیں ہے کہ جس میں سیاستدان، وڈیرے یا جاگیردار محض اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جو چاہیں دین میں رد و بدل کر تے پھریں۔ یہ دین “دینُ اللہ” ہے اور اسکے قوانین و احکام بھی وہی ہونگے جو اُس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ نازل کیے ہیں۔ جب اس خیر کثیر و نعمتِ عظیم کو تمام انسانوں تک پہنچانے اور اسکے قبول کرنے میں اللہ اور اس کے رسول نے کوئی قید نہیں لگائی تو پارلیمنٹ کون ہوتی ہے؟ سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے حکمران ہے اِک وہی باقی بتانِ آزری اور یہ جواز گھڑا گیا ہے کہ اِسلام بزور جبر پھیلایا جا رہا ہے۔ سنیے اسپیکر صاحب! اگر اسلام بزورِ جبر و شمشیر پھیلایا جا تا تو آج آپ کے پڑوسی ملک ہندوستان میں ایک بھی ہندو نہ ہوتا، سندھ میں تو تعداد ہی آٹے میں نمک کے برابر ہے اور ویسے بھی سختی اسلام کا مزاج ہی نہیں ہے۔ وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ کہہ دیجیے حق تو منجانب اللہ ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ والی آیت بھی اسلام کے مزاج کی ہی ترجمانی کرتے ہوئے پکار رہی ہے کہ اسلام ہر طرح کے جبر و بربریت سے پاک ہے یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا دین اسلام ہی ہے اور ذرا یہ بھی بتادیجیے کہ یورپ، امریکہ میں جو ہزاروں لوگ روزانہ اسلام قبول کر رہے ہیں اِنکے سروں پر کون سی تلوار لٹک رہی ہے؟ یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں پارلیمنٹ میں بیٹھے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والے یہ کیوں بھول گئے کہ انکے کان میں بھی اذان دی گئی تھی، قرآن پڑھایا گیا ہوگا، نمازوں کا حکم دیا جاتا ہوگا، اٰمَنتُ بِاللّٰہِ وَ مَلئِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رَسُلِہِ سکھایا گیا ہوگا۔ آپ نے یہ اعتراض کیوں نہ کیا کہ میں ابھی 18 سال کا نہیں، جب ہونگا تب سوچوں گا! چلیں تب آپ بچے تھے مگر اَب آپ اپنے بچوں کو یہ حق دینے کو تیار ہیں؟ اصل میں اسمبلی نے یہ سیاسی ڈگ ڈگی بجا کر سندھ میں ہمارے غیر مسلم بہن بھائیوں کو خیرِ کثیر سے محروم کیا ہے اور انکی آخرت کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تمام پارلیمینٹیرین صاحبان سے عرض ہے کہ کچھ عرصہ قبل میں نے بھی اسلام قبول کیا تھا، شکایت تو مجھے بھی ہے مسلمانوں سے مگر یہ نہیں کہ انہوں نے مجھ پر جبر کیا بلکہ یہ کہ دینُ اللہ، دینِ اسلام، دینِ فطرت، دینِ حنیف، دینِ خیر، اور دینِ فلاح فی الدنیا و الآخرہ کی دعوت مجھ تک پہنچانے میں اتنی تاخیر کردی کہ جس کا مجھے آج بھی امتِ مسلمہ سےگلہ ہے۔ میرے حلقہ احباب میں سے 150 کے قریب لوگوں نے اسلام قبول کیاہے، تیسیوں لوگوں نے میرے ذریعے سے اِسلام قبول کیا ہے اور اِس کے علاوہ میں ہزاروں نو مسلموں سے مل چکا ہوں مگر آپ والی وجہ کسی ایک نے بھی نہیں بتائی کہ ہمیں زبردستی مسلمان کیا گیا ہے۔ مسلمان تو فقط اخروی نجات کے پیشِ نظر دعوت اسلام دیتا ہے مگر جنابِ اسپیکر پارلیمنٹ میں بیٹھے اقلیتوں کے ان ٹھیکیداروں سے پوچھئے یا پھر ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ قبولِ اسلام کے بعد ہمیں قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ہمارے بیوی بچے چھین لیے جاتے ہیں، ہمیں واپس کفر میں لوٹ آنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور ظلم و بربریت کا جو دور ہم پر چلتا ہے وہ بیان سے باہر ہے مگر اس سے آپ کوکیا سروکار؟ ہم مسلمان غیر اللہ سے توڑ کر ایک اللہ سے جوڑتے ہیں، تبلیغ دین ہمارا فریضہ ہے۔ دعوت و تبلیغ کی اجازت اسلامی ریاست میں نہیں ہوگی تو پھر اور کہاں ہوگی؟ مگر پوچھئے سیدنا مسیح کی بھیڑوں سے اور ان سے جن کی اکثریت ہمارے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی ہے کہ اُنکو کس نے حق دیا ہے کہ ہمارے مسلمانوں کو تعلیم، علاج، ہنر، مالی معاونت اور یورپ جانے کا جھانسہ دیکر تثلیث کفارہ اور باطل خداؤں کی پوجا پاٹ پر اکسائیں؟ جناب وزیرِ اعلیٰ سندھ صاحب! روکنا ہے تو انکو روکیے جو دن دِہاڑے لوگوں کے ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ جناب ہم تو اس اُمید پر تھے کے آپ سے نو مسلمین کے لئے تحفظ، تعلیم، روٹی، کپڑا اور مکان مانگیں گے مگر آپ نے تو بعد الوفات ستر چھپانے کے لئے جو کفن سنبھال رکھا تھا وہ بھی چھیننے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے اللہ اور اسکا رسول ہی کافی ہے، ہم ٹوٹی پھوٹی مساجد و مدارس ہی میں گزر بسر کرلیں گے اور امت کے خوش حال و خستہ حال مسلمان جو اپنے بچوں کے منہ کا نوالہ ہمارے منہ میں ڈال کر تعلیم و تربیت کرکے ہمیں معاشرے کا ایک کار آمد فرد بناتے ہیں جِن پر آپ کو ا عتراض ہے کہ یہ جبر کرکے مسلمان بنا رہے ہیں وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔ جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ آپکے نانا جان نے ختم نبوت کی بہت بڑی خدمت کرکے امت پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس بنا پر اُمید ہے کہ روزِ محشر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے سپاہیوں کی صف میں آپکے نانا جان بھی شامل ہونگے لہٰذااُنکا امیج خراب مت کیجئے اور اگر آپکو قانون ہی بنانا ہے تو قانون اُن سے لیجیے جن سے بہتر کوئی قانون ساز نہیں ہو سکتا، اُن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیجیے جنہوں نے نہ صرف غیر مسلموں کے حقوق بلکہ جانور، درخت، کھیت و کھلیانوں کے حقوق بھی ایسے بتا ئے ہیں کہ جس کی اس کائنات میں کوئی مثال نہیں ملتی اور اگر آپ واقعی اس قانون کو اپنے دستور کا حصہ بنائیں گے تو ہم آپکے قدموں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنالیں گے اور آپکے قدموں تلے قوم اپنی پلکیں بچھادیگی اور بوقتِ ضرورت جہاں آپ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا اور اپنے بچوں کا خون بہادینا فخر سمجھیں گے۔ اِس وقت مسجدِ حرام خانہ کعبہ کے سامنے بارگاہ الہٰی میں بدست دعا ہوں کہ پوری امت مسلمہ جو اس وقت شدید ظلم و ستم کا شکار ہے اے اللہ! اس آزمائش کو اب ختم فرمادیجیے، امتِ مسلمہ اور وطن پاکستان کی حفاظت فرمائیے، ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا فرمائیے اور سندھ حکومت سے اپنے دین کی ایسی خدمت لے لیجئے کہ ساری انسانیت کو 17 سالہ محمد بن قاسم کی ایک بار پھر یاد آجائے۔ یہ دعائے طِفل ہی سہی مگر اللہ تو قبول کرنے پہ قادر ہے۔ تحریر : عبدالوارث گِل

Categories: Article's