عاجز کو زمانہِ عیسائیت میں ہی اس بات ادراک ہو گیا تھا کہ اس کرہِ ارض پر پائی جانے والی ہر اچھائی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت طیبہ سے مستعار ہے یا کم از کم انبیاء سابقہ علیہ السلام سے. قصہ مختصر یوں ہے کہ شعوری حیات کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی صالح مسیحی بننا میرا جنون تھا. بارہا کوشش کے آبائی مذہب کا فلسفہِ عقائد و عبادات، تہوار اور رسومات کبھی بھی میری عقل و روح کی تسکیں و راحتِ جاں کا ساماں نا کرسکا. کیونکہ مطالعہ عیسائیت سے سامنے آنے والا تصورِخدا اپنے ظعوف کی وجہ سے اس قدر مایوس کن تھا کہ ناقابل بیاں ہے، تعظیمِ یسوع المسیح میں ایسا مبالغہ کہ جہاں خدا کی بھی ثانوی حیثیت معلوم ہوتی تھی. توہین انبیا میں کلیساؤں نے شرق و غرب اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا. اوراپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے کلامِ مقدس کو اس انداز سے خلت ملت کرکے پیش کیا کہ مسیحی مذہب کے عقائد و نظریات، عبادات اور رسومات محض ایک افسانوی منظر پیش کر رہے تھے . اور یوں میرا آبائی دھرم میرے لئے ایک خوابِ تاریک بن کے راہ گیا. دینِ فطرت کی تلاش میں دیگر مذاہب کے ساتھ ساتھ مطالعہ اسلام بھی ناگزیر تھا مگر وراثت میں ملنے والی اسلام دشمنی اسلام اور پیغمبر اسلام کو سمجھنے میں ہمیشہ ہی مانع رہی مگر جب غیر مسلم بشمول مسیحی رہنما و مبلغین مفکر و مصنف، ، ماہرِ تعلیم، فلکیات و عرضیات، مورخ و فلسفی، قیمیا گر و قانون ساز، یہاں تک کہ عظیم ریاستوں کے فاتحین و تحتنشینوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی مداح کرتے دیکھا تو آنکھیں کھلی کی کھلی راہ گئیں. یہ تصویر کا دوسرا رخ تھا جس سے کشتِ جگر نرم پڑ گئی اور مطالعہ اسلام سے ھدایت مجھ پر بارانِ رحمت کی طرح برسنے لگئی. روح کو تطہیر بخشنے والی کتاب قرآن مبین کے آفاقی پیغام کو سمجھنا میرے لئے کوئی مشکل نہیں تھا مطالعہ قرآنِ مبین سے پتہ چلا کہ اللہ سبحان و تعالٰی واحد و یکتا ہے اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں خالقِ عرض و سماوات اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ کا مالکِ حقیقی وہی ہے اور بالآخر سب کو اسی کی طرف لوٹ کرجاناہے. کتابِ فرقان سے حلال و حرام، فرمانبرداری و نا فرمانی اظہر من الشمس سب واضع کردیا گیا ہے اب حلال اور فرمانبرداری اختیار کرنے والوں کے کے لئے نعمتوں بھرے باغات یعنی جنتیں ہیں جبکہ حرام و نا فرمانی کی روش اختیار کرنے والوں کا ٹھکانہ مقامِ آتش و جحیم یعنی جہنم ہے اور انہیں دو مقامات یعنی مقامِ راحت و آرام اور مقامِ بد کی نشاندہی کے لئے اللہ نے لاکھوں انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کیا جبکہ نبیِ رحمۃ اللعالمین کی بعث اسی سلسلہِ انبیاء کی وہ آخری کڑی تھی بلکتی ہوئی بے راہ انسانیت جسکا انتظار کرہی تھی. مزید کتبِ سابقہ پر نظر دوڑائی تو رخ شمس و قمر آئینہ دار دکھائی دینے لگا کہ یہ تو وہی نبی ہیں جسکی دعا ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی اور یعقوب علیہ السلام نے جنکو شیلوا کہہ کر یاد کیا تھا. یہی تو ہیں وہ نبی مثلِ موسٰی اور جنکے بارے لکھا ہے کہ وہ فاران کی چوٹیوں سے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوا. یہ تو وہی رسولِ جمیل ہیں جو زبورِ داؤد کامرکزی حُسن اور جنکو داؤد علیہ السلام محمدیم کہہ کر پکارتے تھے. فارقلیط، مددگار، وہ نبی اور سچائی کی روح کہہ کر ابنِ مریم علیہ السلام نے جنکی نوید سنائی تھی. بگوت پوران نے کالکی اوتار، گوتم بدھ نے مَایتریّا اور پارسی مذہب کی کتب نے جِس سوِی شَنتْ کی بشارتیں دیں محمد صل اللہ علیہ و سلم وہی نبیِ محترم تو ہیں کہ جنکو زمان و مکاں کے فضائلِ کثیر عطا کر کے تمام خلق پر افضل کیا، جنکو حسن ظاہر بھی دیا ، حسن باطن بھی ، نسب عالی بھی رسالتِ اکمل بھی ، کتاب ابدی بھی ، علم و حکمت بھی، شفاعت محشر بھی ، حوض کوثر و مقام محمود بھی ، کثرت امت بھی، رعب و غلبہ بھی ، کثرت فتوح بھی، ایسی نعمتیں برکتیں اور فضیلتیں بھی کہ جنکو شمار میں لانا حقیقتاً محال ہے. مطالعہ سیرت سے قلبِ مضطرب کو یقینِ کامل ہوگیا کہ محمد عبدِ صالح ہی نہیں بلکہ نبی اللہ و محمد رسول اللہ بھی ہیں. مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ربِ کعبہ نے تمام انبیاء و رسول کی صفات جمیلہ و اوصاف حمیدہ اپنے کمال کے ساتھ محمد رسول اللہ میں یکجا و جاگزیں کردیں ہو. ‎ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تاریخِ انسانی میں بلند کردار، شیریں گفتار، خوش اخلاق، کریمانہ عادات، غناو سخاوت بے حساب، عفو و درگزر میں لاجواب، صابر و شاکر حکیمانہ و فاضلانہ بصارت و معاملات اور عبادت گزاری کی وجہ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے سب سے زیادہ بامروت، خیر اور دور اندیش، راست گو، نرم پہلو ، نیک و پاک نفس، پابند عہد، سب سے بڑھ کر سچے اور امانتدار حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نا صرف اپنی قوم میں صادق اور امین کے لقب سے جانے، پہچانے جاتے تھے. بلکہ دشمنانِ دین و جاں تا دمِ آخر آپکے معترف بھی تھے . ان تمام جملہ اوصاف کے ساتھ اللہ نے نا صرف آپ کو عبدِ کامل و رسول اللہ بنایا بلکہ آپ کو خاتم النبیین و المرسلین کا اعزاز بھی حاصل ہوا یعنی اب محمد رسول اللہ کے بعد نا کوئی نبی آئے گا اور نا ہی کوئی رسول. اب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہی وہ فرد کامل و اکمل اور قابل اطاعت و اطباء ہیں کہ جنکے طریقہ و سلیقہِ حیات ہی ضابطہِ حیات و صراط المستقیم ہے کہ جسے اب اپنا کر ہی بنی نوع انسان کے لئے رضائے الٰہی اور حیاتِ جاوداں کا حصول ممکن ہے. میں کوہِ یقین کی اس بلندی پر جاچکا تھا کہ جہاں میں یہ کہنے پر مجبور تھا کہ اگر محمد نبی اللہ و رسول اللہ نہیں تو پھر آج تک دنیا میں کوئی نبی یا رسول اللہ آیا ہی نہیں. جب عقل و شعور، قلب و جگر ظاہر و باطن اس بات پر یکجا و متحد ہوگئے کہ اسلام ہی وہ دین فطرت ہے کہ اک زمانے سے میں جسکی تلاش میں تھا تو بغیر کسی تردد کے یہ عاجز بفضلِ الرحمن حلقہ بگوش اسلام ہوگیا. میرے اللہ تجھے پایا تو دل کو چین ملا اک زمانے سے میری روح تیری تلاش میں تھی. اسلام قبول کرتے ہی امتحانِ عشق یعنی تلخ ادوار کا سامنا ہوگیا جیسے ہی گرمیِ حالات، جھلستے سلگتے شب روز، تلاطمِ وقت اور تھپیڑے دار طوفانِ بے کراں سے ساہلِ پُر سکوں پر پہنچا تو صبغتاللہ و محبت رسول اللہ کا رنگ پکا ہوچکا تھا اب اتباعِ دین و تبلیغ اسلام میرا مقصد اولین بن چکا تھا لہذا اللہ سبحان و تعالٰی نے ایک ایسا ادارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائی کہ جہاں سے نہ صرف غیر مسلم بہن بھائیوں میں اسلام کا پیغامِ نجات پہنچایا جائے بلکہ آنے والے نومسلیمین کی تعلیم و تربیت و دیگر مسائل کا مناسب اور مقدور بھر حل بھی پیش کیا جائے. میری خواہش تھی کہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں سیرت النبی صل اللہ علیہ و سلم کے موضوع پر ایک ایسی کتاب تصنیف کی جائے جو خالصً میرے ان غیر مسلم بہن بھائیوں کے لئے ہو جو ھادی و رہبر محسن کائنات کی سیرت سے ابھی تک محروم ہیں یا جن تک یہ پیغام پہنچا تو ہے مگر خلت ملت، نا مکمل اور توڑ مروڑ کرتصویر کا ایک ایسا رخ جو حقیقت کے بالکل منافی ہے. اس تصنیف کے لئے مجھے ایک ایسے بحر علوم کی تلاش تھی کہ جو نا صرف علوم اسلامیہ میں ہی علم و فن میں کا ماہر ہو بلکہ دیگر ادیان خصوصاً مسیحی تعلیمات پر بھی عبورِ با کمال و نظرِ بے مثال رکھتا ہو. آخر وہ مردِ مجاہد مسجد کی ایک چٹائی پر قال اللہ و قال رسول اللہ کے موتی بکھیرتے ہوئے مل ہی گئے دنیا جنکو خاور رشید بٹ کے نام سے جانتی ہے استاد صاحب سے حالات، خیالات جزبات و خواہشات کا جب اظہار کیا تو عاجزی و انکساری اور مصروفیت کے پیش نظرکتاب لکھنے سے معزرت کرلی مگر چند روز بھی نہ گزرے تھے کہ اللہ کی توفیق اور کام کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے خاور رشید بٹ صاحب نے کتاب لکھنے کی حامی بھرتے ہوئے ادارہ حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیرت سیکشن میں کتاب کی تصنیف کا کام شروع کردیا اس خواہشِ طفل کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں نہایت اعلٰی پایہ کا محققانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اور مختلف زبانوں و دیگر مذاہب و بے شمار تصانیف کا مطالعہ کرنے کے بعد نہایت شاندار اور قیمتی کتاب مرتب کی جس پر تقریباً 5 سال کا عرصہ صرف ہوا. یہ کتاب نہ صرف متلاشیان حق کو منزل کا پتہ بتاتی ہے بلکہ سیرت پر اٹھنے والے غیر مسلم بہن بھائیوں کے بے شمار سوالات، عیتراضات اور شکوک و شبہات کے محکم اور ٹھوس دلائل بھی فراہم کرتی ہے. کتاب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیرت کے ان درخشاں پہلوؤں پر یہ تصنیف نہ صرف حسنِ کلام اور تاثیرِ بیان کا ایک شاہکار ہے بلکہ میرا یہ دعوٰی ہے کہ اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں یہ کتاب اپنی نوعیت کی ایک منفرد و واحد اور بے مثال کتاب ہے جس سے کہ ہماری بہت سی توقعات بھی وابستہ ہیں. تکمیلِ کتاب کے اس پر مسرت موقع پرمبارک باد کے ساتھ میں مولانا خاور رشید بٹ صاحب اور انکے شاگردانِ رشید مولانا شکیل احمد اور مولانا عبد الرحمن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے صبح شام مولانا کی معاونت میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، بھائی عمر قادری اور بھائی سہیل شوکت کا بھی نہایت دل سے ممنون ہوں جنہوں نے کتاب کی کمپوزنگ کے فرائض سرانجام دئیے اور ہمارے نہایت ہی محترم و مکرم بزرگ جناب کامران احمد صاحب جنہوں نے نہ صرف مشکل عبارتوں کو نہایت آسان قالب میں ڈھالابلکہ کتاب کی اول تا نظرِ ثانی کرکے ممکنہ علطیوں سے پاک کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ان کے علاوہ میں ان تمام جملہ افراد کا بھی مشکور ہوں تصنیف کتاب میں کسی بھی درجہ میں معاونت کرسکتے. میں اللہ سبحان و تعالٰی سے دعا گو ہوں کہ اللہ جی اپنے یہاں اس کتاب کو قبولیتِ دراجات عطا فرمائیں اور حلقہِ اہل دل و اہل ذوق میں اس کتاب کو ایسی پزیرائی و قدر شناسی عطا فرمائیں جس کی یہ مستحق ہے. عاجز. عبد الوارث گل

Categories: Article's