آج صبح ایک نو مسلم بہن کی فون کال ریسیو کرتے ہی ایسے رونے کی آواز آرہی تھی جیسے کسی نے کلیجے پر نشتر پھیر دیا ہو، کیا ہوا سب خیر تو ہے؟ کہنے لگی بھائی میرا بیٹا ٹرک کے نیچے آ کر انتقال کر گیا ہے۔ عبدالوارث بھائی میں لاہور آرہی ہوں ،آپ پلیز مجھے میرے بیٹے کے پاس لے جائیں تاکہ میں اپنے بیٹے کا آخری دیدار کر سکوں۔ میرے بھائی نے کہا ہے کہ اگر خنسانےاس جنازہ پر آنے کی کوشش کی تو اسے قتل کر دوں گا جسکی وجہ سے خاندان کے لوگ مجھے منع کر رہے ہیں کہ جنازہ میں شرکت مت کرو! لیکن بھائی میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جاکر رہوں گی۔ مزید اُس اللہ کی بندی نے ایک ایسی بات کی جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا کہنے لگی “مجھے ان باطل خدا کے ماننے والوں کی دھمکیوں سے کوئی خوف نہیں، مجھے میرے رب پر بھروسہ ہے وہ میری حفاظت فرمائے گا اور اگر میں مر بھی گئی تو میرے لئے شہادت کی موت ہوگی۔” اس بہن کو بورے والا سے لاہور پہنچے کے لئے تقریباً 5 گھنٹے کا وقت درکار تھا، میرے ذہن میں اسکے سارے حالات زندگی چلنا شروع ہو گئے ۔بہن جب اسلام کا مطالعہ کر رہی تھی تو کہتی تھی کہ تعلیمات الہٰیہ کے مطالعہ کے دوران دنیا و آخرت کی اُن کامیابیوں کا سراغ ملا کہ جس کے آگے ہر نعمت ہیچ نظر آتی تھی مگر جب بچوں میں ہوتی تو سوچتی کہ میرے بعد انکا کیا بنے گا؟ پھر یہ سوچ کر صبر آجاتا کے آخرت میں کوئی کسی کے کام نہیں آنے والا یہاں تک کہ یہ بچے بھی نہیں لہٰذا وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ اسلام قبول کرتے ہی گھر میں ظلم و ستم کا دور شروع ہوا۔جان کو خطرہ، سامان ضبط اور بچوں کو چھین لیا گیا، حکومتی اداروں میں کاغذی کاروائی کا طوفان بدتمیزی لہٰذا معاشی و معاشرتی مسائل سے حسن و خوبی سے نمٹنے کیلئے قریبی احباب نے نیک سیرت نوجوان عبداللہ سے شادی کروادی۔ تین بچوں کی ماں سے شادی کرنے کے دکھ سے سسرال میں صف ماتم بچھ گیا اور غم کے ایسے بادل چھائے کہ جس سے ہر وقت اس نو مسلم دلہن پر بجلیاں گرتی رہتیں۔ مزید یہ کہ اولاد نہ ہونے کا جرم بھی بہرحال عورت کے حصے میں ہی آتا ہے۔ اس دوران بہن کا مجھ سے رابطہ ہوا تو اس نے اپنے عیسائی خاوند سے اپنے بچے لینے کا مطالبہ کیا، کیس کرکے دو بیٹے تو نہ لے سکے مگر ایک بیٹی لینے میں کامیاب ہو گئے مگر کس کو پتہ تھا کہ اس بچی کی وجہ سے ایک نئی آزمائش کا دور شروع ہونے والا ہے۔ وہ یہ کہ خاوند اور سسرال کا یہ مطالبہ تھا کہ اس بچی کو اسکے باپ کے پاس واپس بجھوائیں یا پھر یہ فیصلہ کرو کہ تم نے اپنی بیٹی کے ساتھ رہنا ہے یا خاوند کے ساتھ؟ حالات بہتر ہو جائیں یہ سوچ کر سسرال سے علیحدگی اختیار کرلی اور ایک عرصے تک اپنے سسر ہی کے گھر میں کرایہ ادا کر کے رہتی رہی اور بالآخر اُسکو بھی ایک ماہ قبل کسی وجہ سے خالی کرواکر گھر سے بے گھر کردیا اور آج کل وہ کرائے کے مکان کی تلاش میں تھی۔ کاش اُس کے بیٹے کو علم ہوتا کہ ماں کے ابھی تو پچھلے زخموں کا گھاؤ نہیں بھرا، ابھی تو کمر سیدھی بھی نہیں ہوئی اور آج میرے انتقال کی خبر ماں پر کیا قیامت ڈھائے گی؟ مگر آفریں اس ماں پر جسکے صبر کا یہ عالم تھا کہ بات بات پر کہتی تھی یہ میرے اللہ کا فیصلہ ہے میں اس پر راضی، بات بات پر اللہ کا شکر، نمازیں اپنے وقت پر ادا کر رہی تھی۔ لاہور سے فاروق آباد کا سفر شروع کر نے سے پہلے نہایت محترم، محسن حافظ عبدالعظیم اسد صاحب سے ساری صورت حال کے پیش نظر مدد و رہنمائی چاہی جس پر حافظ صاحب کے توسط سے نہ صرف وہاں کی لمحہ بہ لمحہ خبر ملتی رہی بلکہ پولیس کی نفری و دیگراحباب کی حفاظت میں بہن اپنے بیٹے کا آخری دیدار کر سکی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ جنازے میں شرکت پر قتل کی دھمکیاں دینے والوں کے چہروں پر ایک عجیب خوف کی سی کیفیت تھی۔ یہ میرا، پولیس کا یا دیگر احباب کا کمال نہیں تھا بلکہ اُس اللہ کا کمال تھا جس پربہن کو بھروسہ تھا کہ وہ اس کی حفاظت کرے گا اوراس پر وہ سارے راستے اللہ کا شکر و تمام معاونین کو دعائیں دیتی رہی۔ میں آج تک بہت نو مسلمین سے ملا ہوں مگر یقین و ایمان کی پختگی، صبر و استقامت، عفو و درگزر کی جن بلندیوں پر اسکو دیکھتا ہوں تو نہ صرف خود کو بہت چھوٹا محسوس کرتا ہوں بلکہ افسوس بھی ہوتا ہے کہ عبد الوارث تُونے اللہ کی نعمتوں پر اتنا شکر نہیں کیا ہوگا جتنا اس بہن نے آزمائشوں پر صبر کیا ہے۔ بہن کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ اسکے لئے ہر طرح سے آسانیاں فرماوے۔آمین! ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے اِس بہن کی خدمت کے لئے ہمیں چنا۔ تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's