چند روز قبل حقوق الناس ویلفئیر فاؤنڈیشن کے آفس میں ایک عورت نے اپنے پانچ بچوں سمیت اسلام قبول کیا، میرے لئے یہ ایک ایسی سعادت تھی جس پر میں پھولے نہیں سمارہا تھا۔ جاتے ہوئے کہنے لگی بھائی آپ سے گزارش ہے کہ ہمارے لئے کہیں اور مکان کا انتظام کردیں کیونکہ جس فلیٹ میں رہائش پذیر ہوں اس کے مالک سمیت کچھ اوباش قسم کے لوگ روزانہ شراب نوشی کے بعد کچھ دِنوں سے بلا وجہ مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ آپ مکان کہیں اور دیکھ لیں میں کوشش کرتا ہوں اللہ پیسوں کا بندوبست فرمادیں گے۔ یہ کہتے ہوئے اِنکو رخصت کیا۔ مکان کی تلاش ابھی جاری تھی کہ کل رات آفس سے واپسی پر ایک قدم گھر کے اندر اور ایک بار ہی تھا کہ ایک کال موصول ہوئی۔ بھائی عبدالوارث؟ جی آپ کون؟ میں باجی آمنہ کے حوالے سے بات کررہا ہوں۔ میں نے سوچا شاید مکان مل گیا ہے اور اب پیسوں کا کہنا ہوگا مگر ان صاحب نے تو بات کرکے پاؤں سے زمین ہی نکال دی۔ کہنے لگے کہ آج فلیٹ کے مالک اور اسکے کچھ دوست شراب پی کر باجی آمنہ کے کمرے میں گھس گئے، غیر مناسب حرکات کا ارتکاب شروع کردیا، مزاحمت پر باجی نے شور و غل کیا تو انہوں نے مار پیٹ شروع کردی۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے جب اپنی ماں کو بے یار و مددگار، آہ و زاری کر تے دیکھا تو ماں کو بچانے کے لئے آگے بڑھ آئے مگر ان حوس زدہ درندوں نے بچوں پر بھی تشدد شروع کر دیا اور انکے سامنے انکی ماں کے کپڑے پھاڑدیے۔ لاتیں، گھونسے، تھپڑ مار تے رہے اور جب اس سے بھی دل نہ بھرا تو بالوں سے پکڑکر گھسیٹتے رہے۔ قصور صِرف یہ کہ یہ نو مسلمہ بہن ان سانڈوں کا لقمہ حوس نہیں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اللہ کے بندوں نے منت سماجت کرکے اس بہن کو چھڑا کر اسکے کمرے تک لے گئے، کمرا اندر سے لاک کرکے بہن نے ہمت کرکے 15 پر کال کردی جس پر تقریباً 2 گھنٹے بعد عملدرآمد ہوا۔ اصل مجرم تو پولیس کی ملی بھگت سے فرار کرا دئیے گئے محض خانہ پوری کے لئے ملزمان کا ایک ملازم حراست میں لے لیا۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگے کہ بہن آمنہ کو بھی پولیس والے تھانہ کوٹ لکھپت لے گئے ہیں۔ ہاتھ میں پکڑا سامان اہلیہ کو پکڑاتے ہوئے انہیں قدموں تھانے کی طرف دوڑلگادی۔ اللہ جی سے مدد کی دعا کی اور دورانِ سفر ہی تقریباً تمام دوستوں سے امت کی اس نو مسلم بیٹی کے لئے قانونی کارروائی کے لئے مدد و تھانہ پہنچنے کی اپیل کی مگر افسوس کہ اس سوئی ہوئی امت کا فرضِ کفایہ ادا کرنے کے لئے صرف دو لوگ ہی پہنچنے میں کامیاب ہوسکے۔ پانچ گھنٹے مغز ماری کے بعد تھانے میں محض درخواست ہی جمع ہوسکی، ایس-ایچ-او جناب عاطف ذوالفقار نے یقین دہانی کرائی کہ آپ بے فکر ہوجائیں بس ابھی FIR کٹ جاتی ہے۔ اپنی کڑاکے دار آواز میں انہوں نے تفتیشی عبد الرؤف کو حکم دیا کہ فوراً کارروائی کی جائے، انکے یس سر کے تابع دارانہ انداز سے ہمیں یہ یقین ہوگیا ابھی پرچہ ہوگا، ریٹ ہوگی، ملزمان کو گرفتار کر کے کڑی سے کڑی سزا سنا دی جائے گی تاکہ آئندہ امت کی بیٹیاں ایسے ضمیر فروش و ناپاک روحوں سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائیں۔ صبح اے-ایس-آئی عبدالرؤف کو فون کیا تو انکی آئیں، بائیں، شائیں سے بڑی تشویش ہوئی، کہنے لگے آپ تھانے آجائیں میں نے کہا کہ میں کسی کو FIR کی کاپی کے لئے بجھوادیتا ہوں۔ کہنے لگے کہ آپ خود ہی آجائیں ایس-ایچ-او صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے مولانا لطیف صاحب کو کاپی کی وصولی کے لئے روانہ کیا۔ منشی سجاد سے پتہ چلا کہ مصروفیت کی وجہ سے ابھی پرچہ ہی نہیں کٹا اور ہمیں رات سے ٹرک کی بتّی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کہ کارروائی ہورہی ہے اور آج صبح سے ابھی کرتے ہیں دوپہر، شام، کرتے کرتے رات دس بجنے کو ہیں مگر مجرموں کی گرفتاری تو دور تاحال FIR ہی نہیں کاٹی گئی۔ میری روح کانپ گئی جب رات بارہ بجے دوران واپسی آمنہ باجی کے بارہ سالہ بیٹے نے اپنی ماں پر ظلم کی ناقابل فراموش داستان سناتے ہوئے یہ کہا کہ “انکل میں نے اپنی ماما کو بچالینا تھا مگر وہ سارے مجھ سے بڑے تھے۔” کاش ان ظالموں نے اتنا ہی سوچا ہوتا کہ جس کی عزت کو پامال کرنے جارہے ہیں اس عزت کی حفاظت کے لئے ہی تو اس نے آغوش اسلام میں پناہ لی ہے۔ ہمارے سرکاری ادارے آج اگر اس بے بس و بے کس، بے یار و مددگار بہن کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے تو یہ قانون ساز اداروں کے منہ پہ ایک ایسا زور دار طمانچہ ہوگا جسکی آواز صدیوں تک گونجتی رہے گی۔ تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's