آج صبح دوران ایکسرسائز استاد محترم حافظ ارشد صاحب کے موبائل پر گھر والوں نے کال کر کے اطلاع دی کہ ہسپتال میں ہمارے نو مسلم بھائی خادم حسین قضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔ سنتے ہی گھر کی طرف دوڑ لگادی اور ادارہ کے ساتھی بھائی عتیق الرحمن صاحب سے فون کرکے سارے معاملے کی خبر لی اور چند الفاظ کا سہارہ لے کر انکی تالیفِ قلب کرنے کوشش کی کیوں کہ پچھلے دو ماہ سے اپنے والدین کی طرح ہسپتال میں انکی خدمت پہ یہی معمور تھے۔ تدفین و تکفین کے نظم کے بارے ابھی غور و فکر کر ہی رہے تھے کہ استاد محترم حافظ ارشد کمبوہ کا فون آیا کہ عبدالوارث خیریت تو ہے صبح بغیر بتائے ہی چلے آئے؟ میں نے ایک ہی سانس میں ساری صورتحال بیان کردی کہ کچھ عرصہ قبل بھائی خادم حسین حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو خاندان والوں کے لئے یہ عمل کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ اِسی وجہ سے خاندان نے لا تعلقی اختیار کرلی، ایک عرصہ سے تنہا زندگی بسر کررہے تھے اچانک ایک سے زیادہ بیماریوں نے آ گھیرا تو سنبھالنے والا کوئی نہ تھا کچھ اللہ کے بندوں نے ہمارے ادارہ حقوق الناس ویلفئیر فاؤنڈیشن سنٹر فار نیو مسلم سے رابطہ کرکے اطلاع دی۔ ہم نے ہسپتال میں داخل کروادیا، دو ماہ زیر علاج رہنے کے بعد آج صبح فجر کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے بس اسی سلسلے میں آپکو بغیر بتائے گھر کو چلا آیا۔ حافظ صاحب سے گزارش کی کہ آپکی سوسائٹی کے قبرستان میں اگر انکی تدفین کا انتظام ہوجائے تو بہت آسانی ہوجائے گی۔ حافظ صاحب کہنے لگے عبدالوارث آپ کوئی فکر نہ کریں سارا انتظام ہوجائے گا آپ بالکل فکر نہ کریں۔ ان شاءاللہ گھرکے قریب والی مسجد میں اہتمام کرلیا گیا، اہلیہ محترمہ بھی اس کار خیر میں برابر کی شریک رہیں۔ خرابِ طبیعت کے باوجود غسل کے لئے بیری کے پتوں کو پانی میں ڈال کر گرم کر کر کے دیتی رہیں۔ ادارے کے علماء کرام نے غسل دینے کے بعد جب کفن پہنایا تو عجیب منظر تھا۔ اتنا اطمینان و پُرسکون چہرہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بھائی خادم حسین سورہے ہوں۔ اس جنازہ میں انکے اپنے رشتہ دار تو کوئی نہیں آئے لیکن مسلمانوں نے بھی اپنوں سے بڑھ کر کردار ادا کیا، مسجد میں اعلان ہوا تو قریب ڈیڑھ دو سو افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ الحمدللہ چپکے سے جنازہ اٹھا اور بھائی خادم حسین کی میت کو بسم اللہ و علی ملت رسول اللہ کی دعا کے ساتھ سپرد خاک کر دیا۔ اسلام کا فرض اور مٹی کا قرض ادا ہوا۔ میں نے زندگی میں اپنے اور پراؤں کے بہت جنازے دیکھے ہیں مگر عین سنت کے مطابق جیسے بھائی خادم حسین کی تدفین و تکفین کے فرائض سرانجام پائے یہ یقیناً ان پر اللہ کا فضل ہی تھا۔یقین نہیں آتا کہ ایک کمزور، نحیف، ضعیف العمر متعدد بیماریوں میں جکڑا ہوا انسان پہاڑ جیسی استقامت کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ زمانے کی بے وفائی، لاپرواہی،اپنوں کی جدائی، کمر توڑ دینے والی غربت، تنگی تکالیف، پریشانی اور مجبوریاں اس نو مسلم کے ایمان کو رتّی برابر بھی کمزور نہ کرسکیں اور ایمان کی حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔ بعض اوقات کچھ نو مسلم بہن بھائیوں کو قبول اسلام کے عوض بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ وہ ایک اللہ کے لیے ہر ایک کو چھوڑنے پر تیار ہوجاتے ہیں وگرنہ وہ بھی میرے اور آپ جیسے انسان ہی ہوتے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، تمام رشتوں اور بعض اوقات دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہو تے ہیں، مگر یہ راہِ حق کے مسافر آخرت کا ایسا داؤ لگاتے ہیں کہ سب کچھ ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔ دُعا ہے کہ اللہ ہمارے اس بھائی اورہم تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے! آمین اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِی الْمَهْدِیِّیْنَ وَاخْلُفْهُ فِیْ عَقِبِهِ فِی الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِرْلَنَا وَلَهُ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ وَافْسَحْ لَهُ فِی قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِیْهِ۔ تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's