آج ایک نو مسلمہ بہن کو رخصت کرتے ہوئے عجیب روح پَرور منظر تھا میں نے کچھ نصیحتیں کی تو کہنے لگی بھائی آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا اور ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو بہن کو معاف کردینا۔ ازراہِ تفنن میں نے بھی کہہ دیا چلو معاف کیا۔ اس سے پہلے کہ مزید وہ کچھ کہتی میں نے ایک نو مسلمہ سسٹر مریم کو اشارہ کیا کہ وہ دُلہن کو گاڑی میں بِٹھائیں اور دُلہن اپنے دُلہا کے ہمراہ نئی زندگی کی گاڑی میں اپنے منزل کی طرف خوشی خوشی روانہ ہوگئی۔ اسکے جانے کے بعد میں ملاقات کے آخری لمحات کے بارے میں سوچنے لگا کہ جب وہ مجھ سے بات کررہی تھی تو وہ پُر اعتماد تھی، اسکی آواز میں زبر دست ٹھہراؤ تھا۔ رونے کی وجہ سے ناک میں آنے والے پانی کو زور زور سے کھینچ نہیں رہی تھی اور مکمل شرعی پردے میں تھی۔ لیکن مجھےغالب گمان تھا کہ وہ بالکل نہیں روئی۔دوسرے ہی لمحے میں نے مریم سے دریافت کیا کہ عائشہ روتو نہیں رہی تھی؟ تو انہوں نے بھی پُر تعجب لہجہ اختیار کرتے ہوئے نفی میں جواب دیا۔ ایک دم سے ماضی کی تمام یادیں ذہن میں تازہ ہوگئیں۔ ابھی دو سال قبل ہی کی بات ہے کہ بھائی ابراہیم کیلانی کا فون آیا کہ ایک لڑکی جس نےپوشیدہ طور پر اسلام قبول کر لیا ہے اُس کے گھر والوں کو کچھ شک پڑ گیا ہے لیکن ابھی یقین نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ ایک بار ملاقات کروادیں۔ پتہ چلا کہ گھر سے نکلنے پر پابندی ہے۔ ہم مناسب وقت کی تلاش میں رہے کہ اچانک ایک دن انجان نمبر سے کال موصول ہوئی۔ بھائی عبد الوارث بات کرہے ہیں؟ جی میں ہی ہو ں۔ بھائی میں عائشہ ہوں، کون عائشہ؟ بھائی آپ سے ابراہیم بھائی نے بات کی تھی میرے بارے میں۔ جی جی کیا حال ہے آپ کا؟ بھائی میں ٹھیک تو ہوں لیکن گھر والوں کو میرے قبولِ اسلام کا شک یقین میں بدل گیا ہے جِس کی وجہ سے بہت ظلم، تنقید اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ممکن ہے کہ اسی ماہ میری شادی کسی عیسائی لڑکے سے کردیں۔ وہ رورو کر یہ درخواست کر رہی تھی کہ بھائی مجھے جان کی پروا نہیں مگر کہیں میرا ایمان چلا گیا تو میں اللہ کو کیا منہ دِکھاؤں گی؟ بھائی میرے ایمان و اسلام کو بچانے میں میری مدد کریں! بھائی میں مسلمان ہوں، مسلمان جیناو مسلمان ہی مرنا چاہتی ہوں! میں نے تسلی دی اور کہا کہ بیٹی اللہ سب ٹھیک کردیں گے انشاءاللہ۔ آپ اللہ سے دعا کرتی رہیں اور کسی طرح اپنا شناختی کارڈ اِرسال کریں میں آپکے ڈاکومنٹس تیار کرواتا ہوں۔ جب کسی انسان کےاندر شمعِ ایمان لو پکڑتی ہے نا۔۔۔ تو طعن و تشنیع کرنے والی زبان سے دِل پر خنجر چلتے ہیں، چاہے اُسی زبان سے بچپن میں لوری ہی کیوں نا سنی ہو! اُس گھر کے لوگ دشمن، پھولوں بھری سیج کانٹوں کا بستر اور وہ گھر پُر مشقت قید خانہ محسوس ہوتا ہے جہاں اللہ، رسولؐ اور اسکے دین کی مخالفت کی جاتی ہے۔لہٰذا ایک دن اُسکا بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ دیوانہ وار اُس گھرکو جہاں وہ پَلی بڑھی، جوان ہوئی، باپ کی شفقت، ماں کی ممتا، بہن بھائیوں کی شرارتیں، لاڈ پیار، سہیلیاں، گُڑیاں، وہ گلیاں سب کچھ راہِ خُدا میں نثار کر کے چلی آئی۔ ایک روز دورانِ حجامت فون آیا کہ بھائی میں عائشہ بات کررہی ہوں اور گھر والوں کے ظلم و ستم سہنے کی اَب مزید سَکت نہیں تھی اس لئے گھر سے چلی آئی۔ بھائی میں بتی چوک میں فلاں جگہ کھڑی ہوں۔ میں نے کہا آپ وہیں رُوکیں میں ابھی آیا۔ میں جب وہاں پہنچا تو ایک لڑکی پر نظر پڑی جو چند کپڑوں کے شاپر کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ڈری سہمی ، گھبراہٹ و پسینے سے شرابور، آنکھوں میں نمی لئے ہوئے تھی جو صاف نظر آ رہی تھی اور کسی کی تلاش میں دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔ معلوم کرنے کے بعد کہ یہی عائشہ ہے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ سارے راستے اُسکا رونا و رُوداد دونوں ہی میرے ایمان کو تازہ کرتی رہیں۔ بعد ازاں کاغذی کاروائی، مدرسہ کے یہاں زیر تعلیم رہی جہاں باجی کوکب نے تعلیم و تربیت و کفالت کا خوب حق ادا کیا اور مولانا عبد مالک مجاہد صاحب کے زیر اہتمام نورِاسلام کا پیغام عام کرنے والا اپنی نوعیت کا واحد ادارہ دار السلام کی عالی شان مسجد میں آج اس بیٹی کی نہایت پُر وقار تقریبِ نکاح منعقد کی گئی۔ ہمارے سلف کی نشانی پروفیسر محمد یحییٰ جلال پوری صاحب نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ دین کی نشر و اشاعت و خدمت خلق میں ہمہ وقت، ہمہ جہت مصروف عمل میرے بھائی حافظ عبد العظیم صاحب نے فرمایا کہ بچی کے حق مہر کی رقم ان شا اللہ ہم ادا کریں گے۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ جو اللہ کی رضا کے لئے گھر بار چھوڑ کر آتے ہیں اللہ اُن کے ساتھ کیسا پُر رشک معاملہ فرماتے ہیں۔ بعدازاں باجی کوکب کے مدرسہ سے ہی اِس بیٹی کی رخصتی ہوئی اور اِن ماضی کی یادوں سے میرا وہ تعجب و حیرانی جاتی رہی کہ وہ آج کیوں نہ روئی۔ اِن دو سالوں میں ماں کے روپ میں اساتذہ، بہنوں کی جگہ طالبات کے رشتے میسر تو آئے لیکن تقریباً یہ سب ناقص، عارض و نا تواں تھے اورآج وہ اس لئے نہ روئی کہ آج اِسکو ایک ایسا رشتہ میسر آیا جو واقعی اِسکا اپنا ہے جبکہ اپنوں کا ساتھ چھوٹے تو زمانہ ہوا۔ آج وہ اس لئے نہیں روئی کہ آج اسے اپنے گھر سے پرائے گھر نہیں بلکہ پرائے گھر سے اپنے گھر جانا ہے۔ آج وہ اس لئے نہیں روئی کہ وہ اپنے حصہ کا رونا روچکی اور بہت روچکی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس بیٹی کی آئندہ زندگی کو اللہ آسانیوں سے خوشیوں سے اور اپنوں سے ایسے بھردے کہ اسکو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو اور اسکی آنکھ جب بھی نم ہو اللہ کے خوف، اللہ کی یاد اور اللہ کے پیار سے ہو۔ اللہ ہم سب کی کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے! آمین۔ تحریر :عبدالوارث گِل

Categories: Article's