قبول اسلام سے لیکر آج تک جب بھی اپنے ماضی کے جھروکوں میں بھی جھانکتا ہوں تو دل سے اللہ جی کی کبریائی، عظمت، محبت اور شکر کا جذبہ اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں اُن نو مسلم افراد میں سے ہوں جن پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا خاص فضل رہا۔ اللہ مالک الملک نے قبولِ اسلام کے بعد مجھ سے کچھ چیزیں لیں تو صحیح جیسا کہ والدین، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست احباب اور پھپھو زاد کزن جہاں میری پسند کی شادی ہونے جارہی تھی جس کی وجہ سے اِک زمانے تک دل شکستگی کی کیفیت میں مبتلا رہا (بیوی بچے، گھر بار، گاڑی، بینک بیلنس، مشنری اداروں میں بڑی نوکری وغیرہ تو تھی ہی نہیں جو چھن جاتی) مگر بفضلہٖ تعالیٰ عقیدہِ توحید،اور دینِ اسلام پر عمل کی برکت سے وہی والدین جنہوں نے کبھی کہا تھا دور ہوجاؤ ہماری نظروں سے! ہمارے دل اور گھر میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں! اب وہی والدین صرف پیار ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے تمام بچوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں، بہنیں سب بھائیوں میں سے اور بھائی سب بہن بھائیوں میں سے زیادہ مجھے پیار کرتے ہیں۔ وہی رشتہ دار اور دوست احباب جنہوں نے ثواب کی نیت سے میرا مکمل بائیکاٹ کیا تھا اب کبھی انکے یہاں چلا جاؤں تو انکی مسرت کی انتہا نہیں رہتی، کلمہ توحید کی برکت سے اللہ جی نے بے پناہ عزت عطا فرمائی، حصولِ علم کے متعدد مواقع، شفقت فرمانے والے اساتذہ، دیندار دوست احباب، نیک دیندار ازواج، اولاد، گھر، گاڑی اور یہاں تک کہ دین کا ایک ایسا کام فعال کرنے کی توفیق عطا فرمائی کہ جو کام تقریباً مفقود ہی ہوچکا تھا (غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ اور نو مسلمین کی تعلیم و تربیت اور دیگر مسائل کاحل) اِسکے علاوہ اللہ جی کی بے شمار نعمتیں جن کا شمار کرنا تو دور بیان کرنا بھی نا ممکن ہے۔ اس لئے میں یہ بات پورے انہماک سے کہتا ہوں کہ”میرے اللہ نے جو مجھ سے لیا وہ سب سو گنا سے بھی زیادہ اضافے کے ساتھ لوٹا دیا۔” اسی لئے میں کہتا ہوں کہ میں اُن نو مسلم افراد میں سے ہوں جن پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا خاص فضل رہا۔مگر ڈرتا بھی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں جس قدر نعمتیں عطا فرمائیں ہیں کہیں آخرت میں اجر و ثواب سے محروم نا کردیا جاؤں! رَبَّنَا اٰتِنَا فِىْ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِىْ الاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ اکثر ایسے نو مسلم خواتین و حضرات سے بھی مِلنا ہوتا ہے کہ جنکی داستانِ ایمان و آزمائش سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ اِنکے لئے شاید سارے کا سارا اجر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آخرت میں عطا کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک بزرگ محمد خادم صاحب جو کہ اس وقت ہمارے ادارے کے تحت زیرِ علاج ہیں۔ تقریباً ایک ماہ قبل 1122 کے کال سنٹر آفیسر کی کال موصول ہوئی اور کہنے لگی سر ہماری ہیلپ لائن پر بار بار ایک کال آرہی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ ہم لوگ عیسائی ہیں اور ہمارے ایک جان پہچان والے جنہوں نے تقریباً 25 سال پہلے اِسلام قبول کر لیا تھا پچھلے تین ماہ سے بیمار پڑے ہیں اِنکے جسم کا ایک حصہ بلکل مفلوج ہوچکا ہے، چل پھر سکتے ہیں نہ کچھ کھا پی سکتے ہیں آپ سے درخواست ہے کہ آپ انکو یہاں سے لیجاکر کسی مسلم ادارے میں داخل کروائیں جہاں انکا علاج و معالجہ اور دیکھ بھال ہوسکے۔ کہنے لگیں عبد الوارث بھائی مختلف ذرائع سے معلومات لینے کے بعد آپ کے ادارے تک رسائی ممکن ہوئی لہذا جیسے بھی ہو آپ اِن نو مسلم بزرگ کے لئے علاج و معالجہ کے لئے کوئی مناسب انتظامات کریں تاکہ انکی زندگی اور ایمان دونوں بچائے جاسکیں۔ فوری طور پر علماء کرام کو مکمل حالات سے آگاہی کے لئے روانہ کیا۔ حضرات نے حالات معلوم کرنے کے بعد ساری رُوداد اوّل تا آخر سنائی اور سنتے ہی میں نے ایک لمبی سرد سانس کی سواری پر خیالات کی فضاؤں میں کھو گیا اور سوچنے لگا کہ وہ ایک انسان جو 55 سال پہلے جب پیدا ہوا اسکے گھر میں کیا خوشیوں کا سماں تھا؟ منہ میٹھے کئے جارہے ہیں، مبارک بادیاں دی جارہی ہیں، ہر کوئی اس بچے کو اٹھانے کے لئے بے قرار ہے، ماں باپ نے یُونس مسیح نام رکھا، بڑے چاؤ اور مشقت سے اسکی پرورش و تعلیم و تربیت کی۔ یُونس مسیح جوان ہوا تو ماں نے بیٹے کے لئے خاندان کی سب سے خوب صورت و سیرت لڑکی سے شادی کردی ، بچے ہوئے، نئی پرانی اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے باوجود فکرِ آخرت تمام افکار پر غالب آگئی۔غور و فکر، سوچ و بچار کے بعد جب سمجھ آگئی کہ حقیقی کامیابی اِسلام کے سوا اور کہیں نہیں تو فوراً اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلہُ کا اقرار کرکے امتِ مسلمہ میں شامل ہوگئے۔ اب ہر وقت ایک ہی فکر تھی کہ والدین، بیوی بچے بھی کسی طرح اِسلام قبول کر لیں۔ ایک دن ہمت کرکے بیوی سے بات کی تو اس نے گھر میں ایک طوفان کھڑا کردیا، بِل آخر تمام خاندان میں بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ وقتاً فوقتاً اپنے گھر والوں کو سمجھاتا رہا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا، ایک روز کام سے گھر آیا تو بیوی بچوں سمیت اپنے میکے جاچکی تھی، والدین سمیت سارے خاندان نے میرے لئے اپنے تمام دروازے بند کر دئیے۔ پرائے تو پرائے ہی ہوتے ہیں آج اللہ نے دکھایا کہ اپنے بھی پرائے ہوجایا کرتے ہیں، ایک لمحہ کے لئے یوں محسوس ہورہا تھا کہ شاید سب کچھ ختم ہو گیا ہے، صحرائے حیات میں ایک زمانے تک میں اپنوں کا انتظار کرتا رہا اور وہ میرے کُفر میں لوٹ آنے کا انتظار کرتے رہے مگر نہ میں لوٹا نہ وہ۔ پیٹ کی آگ بجانے کے لئے ریڑھی اور سر چھپانے کے لئے مسجد کی ایک دکان کا سہارا لیا۔ تیس دفعہ سال تو بدلا مگر حال نہ بدلا، عید آتی تھی مگر کوئی ملنے نہیں، بیمار ہوتا تھا مگر کوئی پاس نہیں، شدتِ غم سے آنکھوں میں آنسو بھی آتے تھے مگر اشک شوئی کے لئے کوئی نہ تھا، زمانے میں کندھے تو بہت تھے مگر میرے لئے کوئی نہیں جس پر سر رکھ کر رو ہی لیتا۔ محمد خادم (سابقہ یونس مسیح) کی زندگی پہلے ہی تکالیف و مسائل سے بھری پڑی تھی کہ مصیبت کُبرٰی نے بھی آ دستک دی۔ ایک دن تھکا ہارا کام سے لوٹا، بغیر کچھ کھائے پئے بستر پہ لیٹا اور صبح جب اُٹھنا چاہا تو جسم کا ایک حصہ مکمل طور پر مفلوج ہوچکا تھا۔وہ دِن اسی حالت میں دکان میں اپنی موت کا انتظار کرتا رہا لیکن ابھی غمِ روزگار کی قیدِ با مشقت کے کچھ ایام باقی تھے۔ نا جانے کیسے کسی نے انکی آہ و زاری اور سسکیوں کی آواز سنی تو کچھ لوگوں کی مدد سے اگلے دن دکان سے باہر نکالا، ناجانے جیسے کیسےکسی نے جان پہچان کے لوگوں کے گھر منتقل کر دیا کہ آپ اسکی خدمت کریں ہم آپکو اسکا معاوضہ دیتے رہیں گے مگر ایک وقت آیا کہ وہ لوگ اس نو مسلم بوڑھے اور اسکی بیماری سے نا صرف تنگ آ گئے بلکہ اَب اسکو گالم گلوچ کرنا بھی شروع کر دیا۔ ہم نے فوری انکو اپنی کفالت میں لیتے ہوئے علاج و معالجے کے سلسلے میں ہسپتال منتقل کیا۔ نا چاہتے ہوئے بھی گُردوں کی صفائی کا عمل(dialysis) ناگزیر ٹھہرا۔ نہ کچھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں فالج کی وجہ سے جسم اپنا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے، تقریباً 35 دن سے نیم بیہوشی کی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑے ہیں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ جتنی بیماریوں میں مبتلا ہیں انکو علاج نہیں بلکہ انکے لئے دعا کریں کہ اللہ انکے لئے آسانی فرمادیں۔ زندگی جس سے ہر جاندار پیار کرتا ہے بعض اوقات اتنی مشکل،پُر مشقت اور تکلیف دہ ہوجاتی ہے کہ یقین نہیں آتا۔ محمد خادم ہے کہ لمحہ لمحہ موت کا انتظار کررہا ہے مگر موت بھی شاید اسکے اپنوں کی طرح رُوٹھ چکی ہے! یقیناً یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے دُنیا کی اکثر نعمتوں سے محروم رکھ کر جنت الفردوس میں انبیاء و رُسل کا پڑوس، اپنا دیدار اور ہمیشہ کی زندگی عطاء کرنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ انشاءاللہ ؔیہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا تحریر: عاجز عبدالوارث

Categories: Article's