میں ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےنورِ اسلام سے قلب و ذہن کو منور کیا اور میں مسلمان ہو گیا۔ اس نسبت سے میں نے پاکستان میں بسنے والے مسلم و مسیحی خاندانوں کو نہایت قریب سے دیکھا ہے جو اپنوں سے نہ صرف خوشی میں محبت، چاہت اور اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں بلکہ حالتِ غم میں بھی انکی شرکت کا جو منظر دیکھنے میں آتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں بالخصوص کسی اپنے سے بچھڑ جانے پر رونا، چیخ و پکار، بین، بلکہ بعض تو اپنوں کے غم میں بار بار بیہوشی کی حالت میں چلے جاتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ دیکھنے میں آچکا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنوں کے انتظار میں بارات کو نکلنے اور میت کو اٹھنے نہیں دیا جا تا لیکن آج ایک نو مسلم بہن کے جنازے میں شرکت پر ایک عجیب منظر دیکھا! میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ تو موجود ہیں مگر کوئی رو نہیں رہا میں نے سب کی آنکھوں کو دیکھا لیکن کوئی آنکھ اشکبار نہ تھی۔ 25 سے 30 لوگوں کے مجمعے میں آسمان کے پرندوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی شاید اس لیے کہ کوئی بین، چیخ و پکار سسکیوں اور بلبلا نے کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ بیزار لہجے میں کئی بار یہ پوچھا گیا کہ کتنی دیر ہے؟ میت کی حالت گرمی کی وجہ سے خراب ہو جائے گی، قبر کی تیاری میں اتنی دیر؟ گرمی کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں جلدی کریں! میں نے زندگی میں اپنے اور پراؤں کے بہت جنازے دیکھے ہیں کہ جس میں میت پر ہر شخص قربان ہورہا ہوتا ہے مگر کبھی کسی جنازہ میں میت کو اتنا تنہا نہیں دیکھا جتنا کہ آج۔ کیا کہوں کہ کلیجہ منہ کو آرہا تھا جب میت کو اٹھایا تو کسی نے چار پائی نہیں پکڑی کہ ابھی رک جاؤ چچا، ماموں، خالہ بڑی بہن آنے ہی والی ہے، نہ کسی نے چار پائی کو روکا، نہ کسی نے چیخ پکار کی، نہ بین، نہ کوئی کہرام مچا شاید اس لیے کہ یہاں اسکا کوئی اپنا نہیں تھا۔ چپکے سے جنازہ اٹھا، بہن کی میت کو بسم اللہ و علی ملت رسول اللہ کی دعا کے ساتھ سپرد خاک کر دیا۔ اسلام کا فرض اور مٹی کا قرض ادا ہوا۔ اِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ. بعض اوقات کچھ نو مسلم بہن بھائیوں کو قبول اسلام کے عوض بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ وہ ایک اللہ کے لیے ہر ایک کو چھوڑنے پر تیار ہوجاتے ہیں وگرنہ وہ بھی میرے اور آپ کی طرح کے ہی انسان ہوتے ہیں۔ ماں باپ بہن بھائی تمام رشتوں اور دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہو تے ہیں، مگر یہ دیوانے آخرت کی بازی کے لالچ میں سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ دُعا ہے کہ اللہ ہماری اس بہن اورہم تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے! آمین اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِی الْمَهْدِیِّیْنَ وَاخْلُفْهُ فِیْ عَقِبِهِ فِی الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِرْلَنَا وَلَهُ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ وَافْسَحْ لَهُ فِی قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِیْهِ۔ تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's