بہن اُمّ حمزہ تقریباً 9 سال قبل اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئیں۔ مسلمان گھرانے میں شادی ہوئی، کچھ عرصہ بعد اکثر اوقات گھر میں لڑائی جھگڑے رہنے لگے، خاوند نشے کا عادی ہونے کے باعث گھر بار کی ذمہ داریوں سے اکثر لا پروا ہ رہتا، خاوند کا نشہ اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے گھروں میں جھاڑو پوچا اور برتن مانجھنے کا کام شروع کردیا۔ ادارہ حقوق الناس ویلفئیر فاؤنڈیشن سے رابطہ ہوا اور ادارے کے تعاون سے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ اس نے خود بھی پڑھنا شروع کردیا۔ دو ماہ قبل خاوند کے مستقل غیر ذمہ دارانہ رویے اور ظلم سے تنگ آکر بل آخر اپنے والدین کے گھر چلی گئیں، ایک ماہ تو مہمانوں کی طرح آؤ بھگت ہوتی رہی مگر اب ایک نیا طعن و تشنہ کا دور چل رہا ہے۔ صاف الفاظ میں گھر سے نکل جانے کا کہا جارہا ہے۔ بچوں کی تعلیم، صحت گھریلو ضروریات، خلع کا مقدمہ، خاوند کی جانب سے مسلسل جان کی دھمکیاں اور نئی جائے پناہ کی تلاش۔ بس آجکل یہی اثاثِ جان ہے جس کی فکر میں شب و روز گزر رہے ہیں۔ دعا کیجئے کہ اللہ ان کے لئے آسانیاں پیدا فرماویں! آمین

Categories: Article's