میٹرک میں اپنے اساتذہ کے اخلاق و بے مثال اسلامی تعلیمات نے “زینب برکت” کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کردیا گھر والوں کی تعن تشنہ نے گھر سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا. بعد ازاں ایک امیر گھرانے کے صاحب نے بے سہارا سمجھ کر ان سے شادی کرلی چونکہ لڑکے کے گھر والے اس شادی سے شدید ناراض تھے اس لئے ازدواجی رشتہ پانچ سال کی عمر میں اپنے اختتام کو پہنچا. گھر بار مال و دولت اور انصاف سب خاوند کے حصہ میں آیا جبکہ کرایہ کا گھر دو بچے ایک گود میں اور دوسرا چلنے کے قابل، عمر بھر کی تنہائی اور معاشرے کی رسوائی زینب کے حصہ میں آئی. خاوند اور سسرال والوں سے کون پوچھتا ماں باپ تو سمجھ رہے تھے کہ اس نے اسلام قبول کرکے ہمیں دنیا میں نظریں اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا اس لئے وہ اس سے ہر طرح کا تعلق منقطع کرچکے تھے اور زینب کے پاس بھی واپسی کا کوئی چارہ نہ تھا. بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے روزگار کی تلاش نے جھاڑو، پوچا اور برتن دھونے والی خواتین میں ایک اور عورت کا اضافہ کردیا. تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں جماعت اسلامی کے توسط سے انکا رابطہ حقوق الناس ویلفئیر فاؤنڈیشن سے ہوا. انکے سابقہ خاوند میں غیرت کی کچھ مقدار ابھی باقی تھی اس لئے کچھ عرصہ کے بعد کوٹ کچہری کے ڈر سے اپنے بچوں کا ایک معقول خرچہ دینا شروع کردیا. لہٰذا زینب تب سے اب تک حقوق الناس کے زیر تعلیم ہے . چند روز قبل زینب برکت نے ادارے میں ایک درخواست دی کہ انکے قریب میں ایک مکان رقبہ 3 مرلے ایک کمرہ، کچن، باتھ چاردیواری فروخت ہورہا ہے جس کی قیمت 11 لاکھ 50 ہزار روپے ہے آپ سے گزارش ہے کہ یہ مکان خریدنے میں میری مدد فرمائیں . لہذا اللہ کی مدد اور نصرت سے اس مکان کو خریدنے کے سلسلے میں ابھی تک 9 لاکھ 50 ہزار روپے کا انتظام ہو چکا ہے آپ سے درخواست ہے کہ دعا کیجئے کہ اللہ اس نو مسلم بہن اور اسکے بچوں کے لئے مستقل اپنی چھت کا انتظام فرمادیں تاکہ یہ در در کی ٹھوکروں سے نجات پاسکے. تحریر :عبدالوارث

Categories: Article's