ایک دوست کے آفس میں ایک مسیحی لڑکے کو کام کرتے دیکھا تو اپنے دوست سے پوچھا کہ آپ نے کبھی اسے دعوت نہیں دی کہنے لگا کہ کئی بار کہا ہے مگر بات پر غور نہیں کرتا میں نے عرض کی کبھی اپنے گھر پر کھانے پر مدعو کیا ہے کہنے لگا نہیں لیکن آپ کہتے ہیں تو پروگرام بناتے ہیں مگر اس سے بات کرنے کے لئے آپ کو بھی آنا پڑے گا میں نے کہا میں حاضر ہوں اس ملاقات کے بعد چند اور ملاقاتوں کے بعد 13 افراد پر مشتمل یہ عیسائی خاندان اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوگیا اپنے آبائی علاقے سے ہجرت کی اور لاہور آکر آباد ہوگئے ساری زندگی کی جمع پونجی سے تین مرلہ کا پلاٹ لیا اور کہنے لگے کہ بھائی مکان کی تعمیر میں آپکی دعا اور معاونت درکار ہے کچھ دوستوں کے تعاون سے اللہ نے انتظام کردیا مگر لینٹر پر آکر بات رک گئی اللہ سے دعا کی تو کچھ رقم اور جمع ہوگئی آج لینٹر کے لئے مجع شدہ پیسے اس گھر کے سربراہ کو دئیے تو نظر کی کمزوری کی وجہ سے مجھے غور سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے جھولی اٹھائی اور اتنی دعائیں دی اتنی دعائیں دیں کہ میری آنکھوں میں آنسو ہی آگئے آفس سے گھر واپس آتے ہوئے سارے راستے ان دعاؤں کے حصار میں اپنے آپ کو محسوس کررہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ چند پیسوں کے عوض اتنی دعائیں جبکہ یہ پیسے بھی میرے نہیں میں نے تو لوگوں سے مانگ کر دیئے ہیں خیر آخرت میں اگر اللہ سبحان و تعالٰی نے اس بزرگ کی یہ دعائیں ہی میرے حق میں قبول کرلی تو جنت کے کسی نا کسی کونے میں جگہ مل ہی جائے گی انشاءاللہ. تحریر: عبد الوارث

Categories: Article's