فیس بک اور موبائل فونز پر دوستیاں اور اسکےخطرناک نتائج کچھ روز قبل ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس نے مجھے اندر باہر سے ہلا کر رکھ دیا۔ والدین سے ملاقات کر کے گھر واپسی پر سوچ رہا تھا کہ عرصہ دس سال ہوگئے ہیں والدین کو اِسلام کے بارے میں سمجھا تے ہوئے مگر وہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے، اللہ نہ کرے اگر امّی ابو اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گئے تو کیا بنے گا؟ اِنہیں سوچوں میں گم تھا کہ کانوں میں ایک آواز آئی۔ “سُنیں! ایک کلو دودھ لے لیں” میں نے پوچھا جو صبح دودھ لیا تھا اُسکا کیا ہوا؟ اہلیہ کہنے لگی وہ تو ختم ہوگیا ہے، کئی بار آپ سے کہا ہے کہ ایک کلو زیادہ دودھ لگوالیں مگر آپ ہمیشہ اپنی کم آمدنی کا کہہ کر مجھے خاموش کروادیتے ہیں لہذا میں نے اس مسئلے کو نہ چھیڑ نے میں ہی آفیت سمجھی اور کمر کی تکلیف کے باعث گاڑی سے اترے بغیر ہی دودھ والے کو مخاطب کیا۔ “بھائی صاحب 1 کلو دودھ! دوسرے ہی لمحے اپنے سامنے سے ایک خوش لباس خاتون کو آتے دیکھا جو زار و قطار رورہی تھی۔ کبھی ایک آستین سے چہرا صاف کرتی تو کبھی دوسری سے، وہ ٹھیک سے چل نہیں پا رہی تھی میں نے اہلیہ سے کہا کہ اس خاتون کو دیکھیں اللہ خیر کرے یہ کسی مشکل میں نہ ہو! وہ تب تک کچھ دور جاچکی تھی۔ اہلیہ تیزی سے جاکر اسکے سامنے کھڑی ہوگئی اور مخاطب ہوئی بہن سب ٹھیک تو ہے؟ آپکے ساتھ کوئی ہے؟ میں آپکی کوئی مدد کرسکتی ہوں؟ مگر وہ تھی کہ کچھ بول ہی نہیں رہی تھی یا کچھ بولنا نہیں چاہ رہی تھی۔ اہلیہ نے کہا کہ آ پ میرے ساتھ گاڑی میں آئیں۔ وہ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی مجھے شراب کی بو سی محسوس ہوئی، میں نے اس خیال کو نظر انداز کر تے ہوئے اہلیہ سے پوچھا خیر تو ہے؟ وہ کہنے لگی یہ کچھ بول ہی نہیں رہیں۔ میری اہلیہ نے اسے اپنے کندھے سے لگا لیا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے اللہ سے دعاکی اور سوالات کرنا شروع کردیے۔ بیٹی آپ اس علاقے سے ہیں؟ اس نے سر کے اشارے سے نفی میں جواب دیا۔ آپ اس شہر کی ہیں؟ پھر وہ گویا ہوئی کہ نہیں ۔آپ کہاں کی ہیں؟ روتے ہوئے بتایا کہ میں سیالکوٹ کی ہوں۔ میں نے کہا آپ یہاں کیا کر نے آئی ہیں؟ آپ اپنے رشتہ داروں کے یہاں آئی ہیں یا رستہ بٹھک گئی ہیں؟ مگر وہ تو کچھ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ اچانک اسکے رونے سے جو بے بسی کا احساس ہوا تو میں نے پوچھا آپکو کسی نے جنسی طور پر حراساں تو نہیں کیا؟ تو اسنے اثبات میں سر ہلا دیا۔ بیٹی دیکھو رات کے 12 بج رہے ہیں میرے بچے گاڑی میں سوچکے ہیں۔ ہم آپکو ہم اس حال میں یہاں نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر آپ ہمیں ساری صورتحال نہیں بتائیں گی تو ہم کچھ نہیں کرسکیں گے۔ اس نے سیٹوں پر بے ہنگم گِرے پڑے بچوں پر ایک نظر ڈالی اور اپنی آنکھوں کو صاف کیا۔ زور سے ایک لمبا سانس لیا اور بولی آج سے کچھ سال قبل انٹرنیٹ پر ایک امریکہ میں مقیم پاکستانی لڑکے سے میری دوستی ہوئی، پیار محبت بہت عروج پر پہنچ چکا تھا اور شادی کا وعدہ نہایت طوالت اختیار کرچکا تھا۔ مگر آج جب میں اپنے ماں باپ، گھر بار چھوڑ چھاڑ کر اسکے گھر آئی تو اسکے گھر میں کچھ اوباش قسم کے لڑکے موجود تھے۔ مجھے مشروب پیش کیا اور سب سے تعارف کروانے کے بعد اچانک میوزک شروع ہوگیا جسکی میں توقع نہیں کررہی تھی، بعد ازاں شراب کے جام چھلکنے شروع ہوگئے اور مجھے بھی شراب پینے کی دعوت دی گئی۔ میں پیتی کیا مجھے تو اسکی بدبو سے بھی قے آرہی تھی۔ میرے انکار پر مجھے زبردستی شراب پلانے کی کوشش کی گئی جبکہ مزاحمت پر کچھ منہ اور باقی میرے کپڑوں پر آگر ی۔ میری خواہش پر انہوں نے مجھے ایک الگ کمرے میں بٹھادیا، کچھ دیر بعد آنکھوں کی پلکیں خود بہ خود بند ہونا شروع ہوگئیں اور پھر جب ہوش آیا تو 5 گھنٹے گزر چکے تھے اور گھر سے آنے کے بعد بچی کچی عزّت بھی تار تار ہوچکی تھی میں اٹھنا چاہتی تھی مگر بدن ساتھ نہیں دیرہا تھا۔ ہمت کرکے دوسرے کمرے میں پہنچی تو سب نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ جب میں نے اپنے دوست سے کچھ پوچھنا چاہا تو اس نے کہا کہ آج تم چلی جاؤ تمہاری وجہ سے پارٹی خراب ہو رہی ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے اپنی تباہیِ عزت کا ماتم کرنا شروع کردیا اور اس نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا ۔کسی چیز سے پاؤں ٹکرانے سے میں منہ کے بل گِری مگر جب پلٹ کر دیکھا تو وہ پانچ سال اپنی محبت کا اظہار کرنے والا دروازہ بند کر کے جاچکا تھا۔ میں اٹھی اور چلتے چلتے سوچ رہی تھی کہ ماں باپ کی عزت کو ٹھوکر مارکر آنے والی لڑکی کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا جو آج میرے ساتھ ہوا۔ پتہ نہیں اللہ مجھے معاف کرے گا کہ نہیں؟ کیا کروں کہاں جاؤں؟ گھر واپسی ممکن نہیں اور خود کشی ہی ان تمام مسائل کا حل نظر آرہا تھا کہ اچانک آپ کی اہلیہ نے مجھے آواز دی۔ میں نےذاتی وگھر سے متعلق لڑکی سے پوچھا تو پتہ چلا کہ اس امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کا نام (ز) ہے۔ سال قبل میٹرک کیا، باپ سرکاری افسر اور ماں ایک ڈاکٹر ہے۔ میں نے کہا اللہ نے آپکو اتنی نعمتیں عطا کیں اور سب سے بڑھ کر نعمتِ اسلام لیکن آپ نے ناشکری کی! بس یہ اسی کی سزا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر آپ تو بہ کرلیں تو اللہ معاف کرنے والا ہے ۔ میں نے اسرار کیا کہ آپ کو گھر جانا چاہیے۔ کہنے لگی کہ بھائی میں اب کس منہ سے گھر جاؤں؟ سب کچھ تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ میں نے کہا میں آپ کی امّی سے بات کرتا ہوں ۔کہنے لگی کوئی فائدہ نہیں۔ میں نے کہا ابھی تو آپکو گھر سے نکلے ہوئےصرف 8 گھنٹے گزرے ہیں اور اگر کہیں آپکی ایک رات باہر گزر گئی تو آپکے لئے بہت مشکل ہوجائے گی۔ میں نے پوچھا آپ نے گھر سے نکلتے ہوئے امّی سے کیا کہا تھا مینے کہا تھا؟ میں لاہور خالہ کے گھر جارہی ہوں۔ لہذا میں نے مشورہ دیا کہ خالہ کو فون کرو کہ میں سیالکوٹ سے آتے ہوئے ٹریفک اور بعدازاں راستہ بھول جانے کی وجہ سے گم گئی تھی اس لئے نہایت دیر ہوگئی۔ اسکے نہ چاہنے کے باوجود ہم نے اُسے اسکی خالہ کے گھر ڈراپ کیا۔ اُسکے کپڑوں سے گری ہوئی شرب کی بو آرہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اسے دھولوں، مگر وقت مناسب نہیں تھا۔ میرے محسن خواجہ اعجاز صاحب جنہوں نے باپ کی طرح میری تربیت و کفالت کی اُن کا دیا ہوا عطر کا تحفہ میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔ وہ بوتل میں نے اہلیہ محترمہ کو دی کہ اسکے کپڑوں پر مل دیں۔ ہوا یہ کہ شراب کی بو کی جگہ اب اس سے خوشبو آنا شروع ہو گئی اور جاتے جاتے اس نے میرا فون نمبر بھی لے لیا جو کہ میں نہیں دینا چاہتا تھا، مگر اسکا فائدہ یہ ہوا کہ دوسرے دن اسکا فون آیا کہ بھائی میں خالہ کی طرف ہی ہوں، کچھ ڈانٹ پڑی مگر سب ٹھیک ہو گیا۔ اللہ آپکو ہمیشہ خوش رکھے، اگر آپ نہ ہوتے تو پتہ نہیں آج میں کہاں ہوتی، بھائی آپکو دیکھ کر یقین ہوگیا کہ آج بھی دنیا میں اچھے لوگ موجود ہیں۔ میں نےدل میں سوچا اس بیچاری کو کیا پتہ کہ یہی اچھے لوگ ابھی ایک گھنٹہ پہلے اضافی دودھ اور اکثر اخراجات پر اہلیہ کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ویسا اچھا بناویں جیسا وہ چاہتا ہے۔ آمین تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's