“کہو کہ میں ایمان لایا اللہ پر اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ !” ایک نو مسلم لڑکی کی اپنے والدین سے پانچ منٹ کی ملاقات نے استقامت کی عملی تشریح سمجھادی۔ ویسے تو چھ ماہ قبل اسلام قبول کرنے والی اس نو مسلمہ کا دامنِ حیات آزمائشوں سے بھرا پڑا ہے، جب وہ پہلی بار ہمارے ادارے میں آئیں اسلام قبول کیا تو دورانِ نصیحت میں نے ایک بات کہی کہ یاد رکھئے گا جو راہ آپ نے چُنی ہے یقیناً یہ سیدھی بار گاہِ الہی کو پہنچنے والی ہے مگر یہ راستے ناگوار چیزوں سے اٹے پڑے ہیں تو نہایت سنجیدہ انداز میں گویا ہوئی” جیسے میرے اللہ جی چاہیں میں انکی رضا پر راضی ہوں گی”۔ اور پھر وقت نے یہ ثابت کردیا کہ راہِ خدا میں آنے والی ہر تنگی تکلیف اور مصائب سے بخوشی بغل گیر ہوئی کہ یہ سب من جانب اللہ ہے، یونیورسٹی کے لَش ماحول سے ایک دم سے نکل کر ایک مدرسہ، پھر میرا چھوٹا سا گھر اور پھر ایک سادہ سا مدرسہ جہاں ہم سب کچھ فراہم کرنے کے باوجود بھی اسکو والدین کا پیار نہ دے سکے، ماں کے ہاتھوں کی نرم و گرم چپاتیاں، رات سونے سے پہلے دودھ، صبح ماں کی محبت و شفقت بھرے لاڈ، ہر موسم کے رنگ برنگے کپڑے، تہواروں پر مہندی و چوڑیاں، نہ وہ بہن بھائیوں کی چھیڑ چھاڑ نہ سہیلیوں کا کھیل کود نہ وہ روٹھنا نہ وہ منانا نہ کہیں آنا نہ کہیں جانا۔ خیر جب وہ یہاں تشریف لے آئیں تو انکے گھر والوں کو میں نے خود ہی اطلاع کردی تھی کہ آپکی بیٹی ہمارے یہاں با حفاظت تعلیم حاصل کررہی ہیں، اِسکے بعد ہر ہفتہ فون پر پہلے اس سے حال احوال دریافت کر تے پھر گھر آنے کو مجبور کرتے منت سماجت، نہ جانے کیا کیا۔ جب ان تمام طریقوں سے وہ اسلام سے منحرف نا ہوسکی توبالا افسران، ایجنسی اور پھر کورٹ میں میرے خلاف رِٹ فائل کردی کل کورٹ کی جانب سے آرڈر ملا کہ مذکورہ بالا نومسلمہ کو لے کر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے یہاں پیش ہوں! دوسرے دِن میں اُم ابراہیم( فرضی نام )، اپنے وکلاء ملک آفتاب فرخ اور میرے محترم ایڈووکیٹ راؤ طاہر، سید عامر عبدالرؤف اور بھائی عمران قریشی کے ہمراہ کورٹ میں جج کے سامنے پیش ہوئے۔ جج : آپکا نام کیا ہے؟ نو مسلمہ : اُم ابراہیم؟ جج : آپ کہاں رہ رہی ہیں؟ نو مسلمہ : میں ادارہ حقوق الناس کے زیر انتظام تعلیم و رہائش پذیر ہوں۔ جج : آپ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے؟ نو مسلمہ : جی میں نے اسلام اپنی مرضی سے قبول کیا ہے۔ اِسکے بعد جج نے کہا کہ آپ اپنے والدین سے ملیں وہ آپ سے پانچ منٹ کی ملاقات کرنا چاہتے ہیں یہ کہنے کی دیر تھی کہ انکی والدہ ان سے لپٹ گئ اور خوب دھاڑیں مار مار کر رونا شروع ہو گئی، میں نے کہا کہ آپ تسلی سے بیٹھ کر بات کریں۔ وہ نشتوں پر براجمان ہوگئے، میں انکی پشت کی جانب سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا کہ انکی والدہ نو مسلم بیٹی کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر کہنے لگی، “بیٹی جج صاحب سے کہو کہ میں نے گھر جانا ہے”۔ کبھی اسکا منہ چومتی، منت سماجت کرتی، کیا ہی قریب تھا کہ میرا کلیجہ پھٹ جاتا جب انکی والدہ نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ بیٹی یہ سب چھوڑ چھاڑ کر گھر چل! اسکے والد نہایت غصہ میں تھے مگر اپنے آپ کو ضبط کر کے کہنے لگے کہ بیٹی جہاں تم رہ رہی ہو وہاں تو سارا پیسا صدقہ اور زکوٰۃ کا استعمال ہوتا ہے کب تک ان پیسوں پر پلتی رہو گی تمہارے گھر میں تو دنیا کی ہر نعمت ہے۔تُو جو چاہتی ہے ہم کرنے کو تیار ہیں بس ایک بار گھر چل! خاندان کے لوگ کیا کہیں گے؟ ہمارے مذہب کے لوگ سب ہمیں طعنے دیں گے۔ مگر وہ ہمت اور استقامت کی تصویر بنی سب کچھ سنتی رہی، پھر انکی والدہ نے ایک ایسا کام کیا کہ جس پر میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر اس نو مسلمہ لڑکی کی جگہ عبد الوارث ہوتا تو شاید آج ایمان کی بازی ہار جاتا۔ انکی والدہ اچانک نیچے کو جھکی اور اسکے پاؤں پکڑ نے کی کوشش کی اور کہا کہ بیٹی لوٹ آ! یہ وہ پانچ منٹ تھے کہ جس میں بڑے بڑوں کا ِپتہ پانی ہوجاتا ہے، بڑی طاقت، ہمت و بلند حوصلے والے لوگ یہاں بغیر باطل کی پرواہ کئے موم کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ اولاد کے سامنے والدین کی منت سماجت، ہاتھ جوڑنا، پاؤں پکڑنا انسان کے مضبوط فیصلوں کو پست کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ماں باپ کے آنسو پاؤں کی بیڑیا بن جایا کرتے ہیں مگر وہ سر تا پا پردہ میں ملبوس بظاہر ایک کمزور و نحیف سی مناسب قد و قامت والی لڑکی کے سینے میں دل نہیں بلکہ استقامت کا ایک پہاڑ تھا۔ نہایت پُر وقار مگر ادب سے گویا ہوئی کہ، “امّی جان میں اپنے اللہ سے بغاوت نہیں کرسکتی، میں اب گھر واپس نہیں آ سکتی یہاں تک کہ آپ اپنے سابقہ مذہب سے اعلان برات کرکے اسلام قبول نہ کر لیں”۔ اِتنے میں جج صاحب نے دوبارہ طلب کر لیا اور اُم ابراہیم سے پوچھا کہ آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟ اس نے کہا کہ میں اپنے ادارہ حقوق الناس سنٹر فار نیو مسلم ہی واپس جانا چاہتی ہوں جج نے حکم دیا کہ اسکو باحفاظت حقوق الناس سنٹر فار نیو مسلم پہنچادیا جائے! واپس آتے ہوئے میں نے پوچھا کہ اتنی ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیسے کرلیتی ہیں؟ تو کہنے لگیں میں تمام باطل خداؤں سے بیزاری کا اعلان کرکے ایک اللہ جی پر ایمان لائی ہوں اور جس اللہ پر ہم ایمان لائے ہیں استقامت بھی وہی دیتا ہے مزید یہ کہ جس دل میں اللہ کی محبت، اسکا خوف اور اسکو دیکھنے کا شوق ہوتا ہے وہ دِل ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈگمگایا نہیں کرتے۔ دُعا ہے اللہ انکے راستے میں آنے والی تمام مشکلات کو گل و گلزار بنادیں اور ہمیں بھی تمام آزمائشوں سے محفوظ رکھیں اور جو مقدر میں ہونا طے ہے اس میں استقامت بھی ایسی عطا فرماویں جیسی کہ انکو عطا فرما رکھی ہے۔ آمین! “قل آمنت بالله ثم استقم” ؔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا تحریر : عبد الوارث گِل

Categories: Article's