مرے استاد میرے محسن ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ جنہوں نے زمانہِ عیسائیت میں ہی مرے عقائد و نظریات کے پیش نظر اس بات کی پیش گوئی کردی تھی کہ میں ایک دن مسلمان ہو جاؤں گا اور پھر اللہ تعالٰی نے اسی چنگاریِ ایمان کو شمع اسلام میں تبدیل کردیا جسکو ڈاکٹر اسرار رحمۃ اللہ علیہ دو سال قبل محسوس کر چکے تھے. قصہ مختصر یوں ہے کہ شعوری حیات کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی صالح مسیحی بننا میرا جنون تھا. بارہا کوشش کے آبائی مذہب کا فلسفہِ عقائد و عبادات، تہوار اور رسومات کبھی بھی میری عقل و روح کی تسکین و راحتِ جاں کا ساماں نا کرسکا. کیونکہ مطالعہ عیسائیت سے سامنے آنے والے مسیحی عقائد نا صرف خلاف فطرت بلکہ اپنے ظعوف کی وجہ سے اس قدر مایوس کن تھے کہ ناقابل بیاں ہیں. مطالعہ اسلام کے دوران محترم بابر بھائی نے ڈاکٹر اسرار رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دی پہلی بار جب محترم ڈاکٹر کے درس قرآن میں شرکت کی تو ڈاکٹر صاحب قرآن مجید کی ان آیات کی تفاسیر بیان کر رہے تھے جو دراصل میرے سوالات کے جوابات تھے. درس کے بعد پر آپ سے ملاقات کرنا چاہی مگر ڈاکٹر صاحب نے بوجہ مصروفیت معذرت کرلی عاجز نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ بندہ ایک مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص ہے جسکو اسلام کے بارے چند ایک اشکالات کی وضاحت مطلوب ہے جس پر نا صرف ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی بلکہ بہت ہی تفصیلی ملاقات ہوئی. میرے اندر جاتے ہی ڈاکٹر صاحب اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ابصار صاحب سے گفتگو منقطع کرکے میری طرف متوجہ ہوئے اور خود ہی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اپنی روبدار مگر نہایت شفقت سے گویا ہوئے کہ برخوردار کیا نام ہے. جی وارث مسیح، کیا کرتے ہو. جی سنار ہوں، تعلق لاہور سے ہی لگتا ہے جی، تعلیم کا پوچھنے پر میں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر صاحب کبھی سکول نہیں گیا مگر پڑھ لکھ لیتا ہوں.

Categories: Article's