پھولوں کی خوشبو، شبنم کی لطافت، شاخِ گُل کی نزاکت، بلند چوٹیوں کی ہمت ،پہاڑوں کی برداشت، سمندروں کی وسعت، صداقت، شفقت، محبت، درگزر، ایثار، قربانی جیسے الفاظ یکجا کئے جائیں تو لفظ “والدین” بنتا ہے جنکی اس کرّہ عرض پر کوئی مثال نہیں ملتی۔ پیارے امی ابو جان! جب آپ کو میرے ہونے کا احساس ہی ہوا تو آپ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی، ماں تونے تو دنیا کی ہر وہ لذیز و چٹ پٹی چیز ہی چھوڑ دی جو میرے لئے مضر صحت تھی اور تونے صحت افزا چیز کھائی بھی تو میرے لئے نہ کہ اپنے لئے تا کہ تیرا آنے والا بچہ صحت مند، تندرست و توانا ہو، تیرا گزرنے والا ہر لمحہ فکر احتیاط سے لبریز ہوتا، میری آمد سے قبل ہی تو نے پائی پائی جوڑ کر میرے لئے کپڑے بستر اور کھلونے بنانے شروع کر دیے۔ میرے بہن بھائی میری آمد سے قبل میرے رنگ برنگے کپڑے جوتے اورکھلونے دیکھتے تو حیرانگی سے پوچھتے کہ امی یہ سب کس کا ہے؟ تو آپ کہتیں آپ کا ایک پیارا سا ننا سا بھائی آنے والا ہے سب اسی کے لئے ہے اور پھر بہن بھائیوں کا ہر روز ایک نیا تماشہ ہوتا کہ امی بھائی کب آئے گا میں کس سے کھیلوں؟ امّی بھائی جلدی نہیں آ سکتا؟ آپ کہتیں آجائے گا آجائےگا صبر کرو! اور پھر آنے والا ہر دن تیرے وجود پر بوجھ بڑھاتا ہی چلا گیا جو کسی بھی تکلیف سے کم نہ تھا، مگر تیری ممتا کے پہاڑ کے آگے یہ پُرمشقت شب و روز خاک و خش سے زیادہ نہ تھے اور یُوں تُو نے مشقت پَر مشقت جھیل کر نو ماہ پورے کیے اور بِل آخر تُو نے موت و حیات کی وادیوں سے گزرتے ہوئے دردِ عظیمہ کی گھاٹی کو پار کیا تو تیرا جسم درد و تھکان سے چور چور ہوچکا تھا تو پھر اچانک تیرے کانوں نے ایک ایسی رونے کی آواز سنی جس سے نہ صرف تیری ساری تکلیفیں راحت میں بدل گئی بلکہ ممتا کے بے قرار بحر میں اک سکوت سا طاری ہوگیا مزید یہ کہ ہلکا مگر پوری طاقت اور کانوں کو چیر دینے والا میرا رونا تیرے گھرانے میں خوشی کی شہنائیوں کا سا سماں پیش کررہا تھا۔ میرا پورا خاندان بالخصوص والد اور میرے بہن بھائی تو خوشی سے جھوم ہی اٹھے تھے۔ اے میرے پیارے والدین! اِس کار خانہ حیات میں روح تو آپ کے جسم میں بھی تھی، سانس تو آپ بھی لیتے تھے، خواہشات کا مقلد دل تو آپکے سینے میں بھی دھڑکتا تھا، ایک آسان اور مَن چاہی زندگی تو آپ بھی بسر کرنا چاہتے تھے مگر میں پیدا کیا ہوا آپ لوگوں نے تو جینا ہی چھوڑ دیا۔ میری خوراک، آرام، صحت اور تربیت اَب آپ کی اولین ترجیح بن چکی تھی۔ ماں مجھے سلانے کے لئے تُو نے اپنی آنکھوں سے نیند کو رخصت ہی کردیا، میری راحت و آرام نے تیری کمرکو بستر کی نرمی اور لحاف کی گرمی سے نا آشنا کردیا، تُو بھوک پیاس سے بے پرواہ ہوکراپنے نورِ جگر سے میری شکم سیری کی فکر میں رہتی، تُو خود گیلے پر سوتی مجھے خشک پر سلاتی، تُو بھوکی رہتی مجھے خوب کھلاتی پلاتی، تُو دھوپ میں چلتی مجھے چھاؤں میں چلاتی، تیرا وجود سخت گرمیوں کی دھوپ میں میرے لئے شجر سایہ دار تھا۔ سردیوں کی ٹھرٹھراتی راتوں میں تیری آغوش میرے لئے پر سکون آرام گاہ تھی۔ اے پیارے ابو جان! آپ نے بھی اس گلستانِ حیات میں باغبانی کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، میری ضرورتیں پوری کرنے کے لئے آپ نے دِن دیکھا نہ رات، سردی دیکھی نہ گرمی، اولاد کی کفالت نے تجھے موسموں کی شدّت سے بے پرواہ کردیا تھا، فکرِ معاش نے تیرے بوڑھے کندھوں کو بوجھ اٹھانے کا عادی بنادیا تھا۔ جب تُو سارے دِن کی دوڑ دھوپ سے تھکا ہارا گھر لوٹتا تو میری ایک مسکراہٹ تجھے ساری تھکان و رنج و غم سے آزاد کردیتی، زندگی خواہشات کی سواری پر مسلسل آپ کی تلاش میں تھی مگر آپ میری خوشیوں کے حصول کے لئے غمِ روزگار کی بھیڑ میں کہیں کھو چکے تھے یا پھر بہت دور جاچکے تھے۔ جب کبھی میں بیمار ہوتا تو آپ اپنے رَب سے گِڑ گڑا کر دعائیں کرنے میں ساری ساری رات گزار دیتے کہ ہمارے بیٹے کو کچھ ہونہ جائے، میرے علاج کے لئے آپ قرض اٹھاتے ، ڈاکٹروں کی منت سماجت اور ہسپتالوں میں دَر دَر کی ٹھوکریں کھاتے بس مجھے صحت مند دیکھنے کے لئے آپ نے اپنی صحت کو نیلام کردیا۔ ماں تیری محبت کا عالم تو یہ تھا کہ سانس میں لیتا تو دِل تیرا دھڑکتا تھا، میرا صحت مند وجود ہی تیری زندگی کی علامت تھی۔ پھر کئی راتیں گزریں اور کئی دن موسموں کا تغیر در اصل میرے خد و خال، اور قد و قامت میں ترقی کا پیغام تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کئی برس بیت گئے۔ ماں تیرے جگر کا خون میرے ناتواں و بے بس جسم کو قوی و طاقت ور بناتا گیا اور ابّا آپ اپنی ہڈیوں کا عَرق نکال کر میرے جوڑوں میں بھرتے چلے گئے اور میں بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی منزل کی طرف گامزن ہوگیا۔ میری تاریک راہوں میں چراغاں کرتے کرتے آپ کی شمعِ حیات ٹمٹمانے لگی اور آپ کی جوانیاں بڑھاپے نے چھین لیں، میری زندگی میں رنگ بھرتے بھرتے آپکی حیات بے رنگ و نور ہوگئی، مجھے ایک سرسبز، تنا آور و پھل دار درخت بنانے کے لئےحالات کی آندھیوں نے آپکو خشک پتوں کی طرح بکھیر کے رکھ دیا۔ میری خواہشات کو پورا کرنے کے لئے بڑھاپے نے آپکے سارے ارمان نوچ لیے۔ اے میرے عزیز والدین! میں چاہوں بھی تو آپکے ان احسانات کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ ابّو آپکے رزقِ حلال اور ماں تیری تربیت نے مجھے قدرے با ادب، با اخلاق، با ذوق، نرم دل اور صاف گو انسان بنادیا اور پھرایک وقت آیا جب میری جوانی آپکے بڑھاپے کا سہارا اور میرے اخلاق آپکے لئے راحت جاں بن گئے۔ میری شہرت، کامیابی صلاحیت اور ہنر و خدمت پرآپکو ناز آنے لگا اور اُس دن تُو نے مجھے گلے سے لگا کر کہا کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔میرے تمام بہن بھائیوں میں سے آپ مجھے سب سے زیادہ پیار کرتے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اے میرے پیارے والدین! مجھے اس بات پہ فخر ہے کہ میں آپکا فخر تھا،وقت کی تیز رفتار سواری پر میں سالوں کے سال فتح کرتا جا رہا تھا کہ اچانک وقت نے کروٹ لی جس سے حالات، رشتے، اور رویّوں میں نسبتاً تبدیلی آنا شروع ہوگئ، میری زندگی کا نہایت اہم دور شروع ہوتے ہی میری ذہنی بلوغت و شعور نے مجھے غور و فکر کا خوگر بنادیا، یہی وجہ تھی کہ تثلیث، ابن اللہ اور کفارے جیسے عقائد نے مجھے اپنے آبائی مذہب سے بے زار کردیا کیوں کہ فطرت سلیمہ اور آیات آفاقی و انفسی نا صرف خالق کائنات کا پتہ بتارہی تھیں بلکہ چیخ چیخ کر یہ گواہی بھی دے رہی تھیں کہ اس کائنات کا پیدا کرنےوالا وحدہٗ لا شریک ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر قسم کی اولاد و تثلیث سے پاک ہے۔مگر آپ کو تو میری ان باتوں سے اتفاق ہی نہ تھا۔ اے میرے پیارے والدین! میں کیسے اُس ارحم الراحمین و مالکِ کائنات سے بے وفائی کا ارتکاب کرتا جبکہ آپ نے ہی تو مجھے حق پرست اور محسنوں سے وفا کی تعلیم کا درس دیا تھا اورایک روز حق کا تقاضا ادا کرتے ہوئے دین حنیف کی پیروی اختیار کر لی۔ مگر آپ پر یہ بات ناگوار گزری اور بِل آخر آپکا مذہب آپکی ممتا پہ غالب آگیااور آپ نے مجھے سلطنتِ شفقت اور ممتا کی سر زمین سے جلا وطن کر دیا محض اِس لیے کہ میں اُس خدائے واحد و یکتا پر ایمان لے آیا تھا جو آپکا بھی رب ہے اور میرا بھی۔ تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's