یُوں تو آئے دن دعوت نامے موصول ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ ٹی پارٹی، مینگو پارٹی، کلاس فیلوز پارٹی مگر چند روز قبل بھائی عبدالوارث کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جسکا عنوان تھا نیو مسلم افطار پارٹی۔ یہ میرے لئے نا صرف ایک نیا نام تھا بلکہ قابل تعجب بھی تھا، اس لئے کہ یہ دعوت افطار محض اُن لوگوں کے لئے منعقد کی گئی تھی جنہوں نے محض اللہ کو پانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ داروں کی کمی کو پورا کرنا تو خیر مشکل ہے مگر حقوق الناس ویلفئیر فاؤنڈیشن اِنکے دُکھ درد اور خوشیوں میں کسی حد تک انکی دل جوئی و اشک شوئی میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ آج کی تقریب اسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ تقریب کا آغاز باقاعدہ ایک نو مسلم بھائی کی تلاوت ِقرآن سے ہوا بعد ازاں حمد و نعت اور پھر مختصر بھائی عبدالوارث کی حاضرین مجلس سے گفتگو، پھر 35 منٹ کا وقفہ جو کہ کسی بھی دلچسپی سے خالی نہیں تھا۔ عبدالوارث نے اعلان کیا کہ اس وقفہ میں پرانے مسلم بہن بھائی اپنے نو مسلموں سے نا صرف باہمی تعارف کریں، انکی روداد سنیں بلکہ اِنکے ساتھ عید کے دنوں میں دعوت کی پلاننگ بھی کریں۔ انکے ہاں جائیں یا انکو اپنے یہاں بلائیں۔خواتین کے لئے مہندی اور مہندی لگانے والی بچیوں کا، چوڑیاں اور چوڑیاں چڑھانے والی خواتیں کا باقاعدہ فری اسٹال کا انتظام کر رکھا تھا۔ ایمان لانے کے بعد مشکلات اور ان پر صبر پر انعامات کے حوالے سے ایک خوبصورت بیان ہوا اور اسکے بعد رِقت طاری کردینے والی دعا ہوئی، افطاری میں گو کہ مرغ مسلم و بہت اچھی اقسام کے کھانے نہ تھے مگر اس مختصر اشیائے خرد و نوش میں برکت واضح محسوس ہورہی تھی، عجیب ایمان افروز منظر تھا، ایک پرانا اور ایک نیا مسلمان ساتھ ساتھ افطار کررہے تھے۔ واللہ ان لوگوں نے مہاجرین و انصار کی سنت کو زندہ کردیا ۔ میں اس اجر سے محروم نہ رہ جاؤں یہ سوچ کر ایک نو مسلم بھائی کو اپنی پلیٹ میں شریک کرلیا۔ عبد الوارث کی گفتگو سے پتہ چلا کہ والد محترم عبد المالک مجاہد صاحب کی اس پروگرام میں نا صرف خصوصی مالی نصرت و معاونت تھی بلکہ اس کامیاب پروگرام کے پیچھے انکی قیمتی آراء و تجاویز بھی تھیں جس میں ایک رائے یہ بھی تھی کہ نو مسلمین کے غیر مسلم عزیز و اقارب کو بھی اس دعوت میں مدعو کیا جائے بلکہ انکے لئے ہدیہ و تحائف کا انتظام بھی کیا جائے۔ عبد الوارث نے آنے والے تمام غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اور اسکے رسول کی ایک امانت تھی جو آپ لوگوں تک پہنچانا ہمارے ذمہ فرض تھی مگر ہم نے آپ تک پہنچانے میں کوتاہی برتی جس پر ہم آپ سے دل سے شرمندہ ہیں لہٰذا آج وہ امانت آپ تک پہنچائے دیتے ہیں کہ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لے آؤ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں کامیاب کردیں گے۔ جس کے نتیجے میں ایک غیر مسلم بھائی نے حلقہ بگوش اسلام ہونے کا فیصلہ کیا لہٰذا اس نوجوان بھائی کو کلمہ شہادت پڑھانے کا شرف مجھے نصیب ہوا جو میرے لئے کسی بھی خوشی اور سعادت سے کم نہیں۔ الحمدللہ تقریب کے اختتام پر مرد، خواتین اور بچوں کے لئے ٹوپی تسبیح، عطر، مہندی، چوڑیاں، کلپ، پرس، گاڑیاں، غبارے، چاکلیٹ، بسکٹ اور دارالسلام کی طرف سے سب کے لئے تفسیر احسن البیان اور مختلف اقسام کی کتب پر مبنی سیٹ، مشروبات اور کھجوریں تقریباً 300 لوگوں میں تقسیم کی گئیں جبکہ بچوں میں نئے نوٹ بطورِ عیدی تقسیم کرنے کا شرف بھی مجھے ہی حاصل ہوا جس سے قلبِ مضطرب کو جو راحت و سکوں نصیب ہوا ہے اسکو بیاں کرنے سے قاصر ہوں۔ یقیناً راحتِ جاں اور خوشیاں پیسوں سے خریدی تو نہیں جاسکتیں مگر لٹے پھٹے و شکستہ حال و دل لوگوں میں اپنی جان، مال اور وقت لگانے سے نصیب ضرور ہوجاتیں ہیں۔ دعا ہے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ حقوق الناس ویلفئیر فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی نو مسلمین کے اس عظیم مشن میں اپنا پورا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین

Categories: Article's