( ایک نو مسلم کے قلم سے ) میں ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوا، زندگی کے 27 سال عیسائیوں میں بسر کیے مگر ایک بار بھی نہ دیکھا کہ کسی مسیحی نے عید قربان پر قربانی کی ہو، رمضان کے روزے یا عید کی نماز پڑھنے کا اظہار ہی کیا ہو۔مگر اسکے برعکس نا جانے کیوں آج کا مسلمان غیروں کے باطل تہوار سے مرعوب نظر آتا ہے۔ آج کا نوجوان غیروں کے تہوار منانے کے لئے پوچھنا چاہتا ہے کہ غیر مسلموں کے تہوار منانے میں آخر حرج ہی کیا ہے؟ تو سنو اللہ کے بندو! مسیحی اقوام کے باطل عقائد، نظریات اور تہواروں میں ایک تہوار نئے سال کا بھی ہے۔ جس کا آغاز اصولاً تو “25 دسمبر” سے ہونا چاہیے تھا کیونکہ مسیحیوں کا عقیدہ تو یہ ہے کہ مسیح ؑ “25 دسمبر” کو پیدا ہوئے اس لئے سال کا آغاز بھی اسی دن سے ہونا لازم تھا مگر ہمارے اس اعتراض پر مسیحی برادری کا جواب ہے کہ مسیحؑ پیدا تو 25 دسمبر کو ہوئے لیکن آپ کے ختنے ساتویں دن کئے گئے اس لئے جس روز مسیح مختون ہوئے اس دن سے ہم اپنے نئے سال کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ ہے مسیح کی بھیڑوں کی دلیلِ طفل اور اگر یہ ختنوں کی رسم اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے کہ مسیح ؑ کی پیدائش پر اس کو ترجیح دی جاتی ہے تو مسیحی خود اس رسم پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ مروجہ عیسائیت در اصل معجونِ مرکب ہے ان تمام تہاذیب و مذاہب کا جن کی تان ملتی ہے جاکر آریائی، یونانی، بابلی ، فارسی اور رومی مذاہب سے اور تاریخ کا طالب علم اس بات سے خوب واقف ہے کہ تاریخ انسانیت پر بت پرستی و باطل عقائد و نظریات کے جو اثرات مذکورہ بالا تہذیبوں نے مرتب کئے ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، لہٰذہ جس طرح مسیحی کلیسیاؤں نے تثلیث ابن اللہ، کفارے کا عقیدہ اور ایسٹر وکرسمس جیسے تہوار بت پرست مذاہب اور تہاذیب سے مستعار لئے وہاں نئے سال کے تہوار کا بچہ بھی انہوں نے انہیں بت پرست اقوام سے گود لیا جو آج ایک بگڑے ہو ئے سرکش اور بدمعاش لڑکے کی شکل و صورت اختیار کر چکا ہے۔ نئے سال کا تہوار منانے والے ایک قدیم تاریخ رکھتے ہیں۔ نئے سال کو خوشی منانا اور سال کے پہلے دن کو اہمیت دینا ، اس کو عہدو پیماں کا دن ماننا، تحائف کا تبادلہ ان تمام مراسم کا سلسلہ 2000قبل مسیح سے چلتا آرہا ہے ۔ نئے سال کا تہوار مختلف تغیرو مراحل سے گزرنے کے بعد بل آخر آج ایک عالمی مگر عیاشی، فحاشی، اور گل گباڑے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اصل رومی کیلنڈر دس ماہ پر مشتمل تھا جس میں 304دن تھے ۔ کچھ مورخین کے نزدیک 713 قبل مسیح میں بادشاہ Numa Pompilius نے دو مہینوں کا اضافہ کیا۔ 153 قبل مسیح سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ یکم جنوری کو قونصل شہروں کی دیکھ ریکھ کے لئے تعینات کئے جانے والے سرکاری افسران مقرر کئے جاتے تھے اور اس تقرری کو انتظام و انصرام کا اہم ترین حصہ سمجھا جاتا تھا ۔ تقرریوں کے حوالے سے اس دن کا انتخاب کیوں کیا جاتا تھا اس حوالہ سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ لفظ جنوری کا تعلق رومی لفظ جینس سے ہے جو اہل روم کے نزدیک آغاز اور تبدیلی کا دیوتا تصور کیا جاتا تھا اور اسی بنا پر جنوری کے مہینے کی پہلی تاریخ کو سال کی شروعات کے لیے منتخب کیا گیا ۔ حالانکہ اس کے بعد بھی کیلنڈر میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں لیکن پھر بھی آج تک نئے سال کی شروعات یکم جنوری سے ہی کی جاتی ہے۔ موجودہ January، رومیوں کے دیوتا جینس سے ہی منسوب ہے۔ یعنی کہ Janus  Januaruis  January لہٰذا یہ جشن سالِ نو خاص جینس دیوتا کے لئے ہی منایا جاتا تھا جو آج ایک “ہیپی نیو ائیر” کے نام سے پہچانا جا تا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ جات سے ایک عام آدمی بھی اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ مسیحی کلیساؤں نے جہاں خالص بت پرستانہ عقائد ، نظریات کو مسیحی تعلیمات سے نتھی کرتے ہوئے کچھ خوف نہ کیا وہاں نئے سال کو مسیح کے ساتھ منسوب کرنے میں کیا عار محسوس کریں گے۔ ڈایونس اکسگز نے عیسوی کیلنڈر کی بنیاد حضرت مسیح کے 525 سال بعد رکھی جبکہ کچھ ہی سالوں بعد اسکو یہ احساس شرمندگی ستانے لگا کہ مسیح کی تاریخ پیدائش و سال کے تعین میں ہم سے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ سابقہ پوپ بینیڈیکٹ “جیزز آف نازرتھ”، کینن فیرر “دیں لائف آف کرائسٹ” اور مائکل ہارٹ “دی ہنڈرڈ” میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ 25 دسمبر یا نئے سال کا مسیح یا مسیحی تعلیمات سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اجازت چاہی کہ مقام بوانہ پر ایک قربانی کی منت مانی تھی پوری کرنا چاہتا ہوں تو آپ نے پوچھا اس مقام پر کسی بت کی پوجا یا انکے کسی تہوار کو تو منعقد نہیں کیا جاتا تھا؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی۔ واضح ہوا کہ مسلمان کا ان مشرکانہ مراسم و مقامات سے دور رہنا شریعت کو کس حد تک مطلوب ہے۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ میں جس مادر پدر آزاد تہذیب کو ٹھوکر مار کر آیا تھا آج کے کچھ مادہ پرست، حواس باختہ سیکولر قسم کے مسلمان اُسی تہذیب پر رال ٹپکا رہے ہیں۔ جس بے مثال فلسفہ توحید ، لاجواب نظریہ حیات اور آخرت کی لازوال کامیابی مجھے اور میرے جیسے کروڑوں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لائی، وہیں اس دین کی تعلیمات سے بے بہرہ، اپنے اسلاف سے کٹے ہوئے، بے یقینی اور نااُمیدی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے کچھ لوگ اُس تعلیماتِ الہٰی سے نظریں چرا رہے ہیں جس کا بدل پوری کائنات میں نہیں۔ ذرا اپنی خواہشِ نفس سے بالا ہوکر اس تہذیب کو دیکھ تو سہی جہاں تہذیب کا مطلب ہی مذہب سے آزادی ، ناچ گانا ، مصوری ، بت تراشی و بت پرستی، مردوزن کا اختلاط، کثرت شراب نوشی، جنسی آوارگی ، بے راہ روی، ہم جنس پرستی ، سود اور لوٹ کھسوٹ ہے۔ جبکہ اسلام کے نزدیک لفظ تہذیب کا معنی ہی سجانا ، آراستہ کرنا ہے ۔ ہمارے یہاں ہر وہ عمل جزوتہذیب ہے جو ہماری شخصیت کو حسین بنائے، ہمارے کردار کو عظیم بنائے، نیز ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے ،یہ ہماری تہذیب ہے ۔ علم ، اخلاص، خدمت اور محبت ہماری تہذیب کے بنیادی اجزا ہیں۔ او میرے بھائی۔۔! او میری بہن ۔۔! جو تجھے چھلکتے ہوئے جام معلوم ہوتے ہیں میں نے اس تہذیبِ اغیار کے ابلتے گٹروں کا پانی پیا ہوا ہے، تبلے کی تھاپ پر تھرکتے جسموں کی محافل سے پیچھا چھڑا کر آیا ہوں ۔ “سُن” رکجا۔۔۔! مت جا ۔۔! ایک ایسی تہذیب کے پیچھے جہاں سورج بھی جاتا ہے تو ڈوب جاتا ہے۔ تحریر :عبدالوارث گِل

Categories: Article's