ایک درویش کی “مجلسِ تن سازی و من سازی” نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ “پاکستان اور اسکی عوام کتنے عجیب ہیں نا۔ اس نوعیت کی مجالس کا آغاز عموماً یوں نہیں ہوتا مگر فجر کی نماز کے فوراً بعد منعقد ہونے والی اس مجلس کا آغاز خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت سے کیا گیا پھر یک زبان ہوکر نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم پر درود شریف پڑھا گیا. حیرانگی سے بے ساختہ منہ سے نکلا what is this. کیونکہ اس طرح کی اسمبلی اور صبح کا آغاز تو اسلامی اداروں میں بھی نہیں ہوتا. حال احوال پوچھنے سے قبل استاد محترم حافظ ارشد صاحب خود ہی فرمانے لگے. جب آپ سے آپ کا حال پوچھا جائے تو یہ تصور کرتے ہوئے کہ اللہ سبحان و تعالٰی نے اتنی خوبصورت صبح ایمان اور مکمل صحت کے ساتھ عطا فرمائی لہذا حضور قلبی سے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہیے گا الحمدللہ. اور پھر بلند آواز سے پوچھنے لگے! کیسے ہیں آپ؟ تو تمام لوگوں نے ہاتھوں کو بلند کیا اور صبح کی پُر کیف فضا الحمدللہ کی آواز سے گونج اٹھی۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے فرشتوں نے پروں سے مجلس کو ڈھانپ لیا ہو۔ پھر 15 منٹ تک خوب مشقت کروانے کے بعد کہنے لگے۔ 33 بار سبحان اللہ پڑھ لیجئے پھر 15 منٹ بعد جب دیکھا کہ شاگردانِ مجلس کا سانس پھول چکا ہے تو رک کر کہنے لگے اب آپ 33 بار الحمدللہ پڑھ لیں اور پھر کچھ دیر بعد فرمایا 34 بار اللہ اکبر پڑھ لیجیے. مجلس کے اختتام پر اس سے قبل کہ سارے لوگ حافظ صاحب سے مصافحہ کے لئے امڈ پڑتے حافظ صاحب فرمانے لگے ہر کام کی کچھ نہ کچھ فیس ہوتی ہے لہٰذا یہاں آنے کی فیس ہے آپ کی مسکراہٹ آتے ہوئے اور ایک بار جاتے ہوئے۔ آنکھیں بند کرکے دعا ہوئی اور پھر فرمانے لگے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے آنکھوں کو کھولیئے خوش رہیے اور خوشیاں بانٹتے رہیے۔ یقیناً آپ حیران ہورہے ہوں گے کہ یہ کیسی مجلس ہورہی ہے! لہٰذا یہ “پاکستان یوگا کونسل” کے زیر اہتمام ایک صحت مند پاکستان بنانے کا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے جس میں استاد محترم حافظ ارشد صاحب کی خصوصی کوشش سے جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی بیماریوں سے بھی بچاؤ یقینی بنایا جارہا ہے. مجھے مختلف جم و یوگا کلبز میں ایکسرسائز کرنے کا اتفاق ہوا مگر بھاری فیس اور نا چاہنے کے باوجود غیر اخلاقی و غیر شرعی امور کا حصہ بننا پڑا جبکہ استاد محترم حافظ ارشد صاحب کی ایکسرسائز کلاس کا آغاز ہی نماز فجر سے ہوتا ہے بعدازاں تلاوت، درود، ایکسرسائز کے دوران وقفے وقفے سے مسنون اذکار، بار بار صدقِ دل سے اللہ کا شکر ادا کرنے کی ترغیب، جمعہ کو محترم پروفیسر صاحب کے عدل و انصاف، امن اور محبت پر مشتمل دروس بعض مقامات میں سانس کو Inhale and Exhale کے دوران بھی اللہ ہی کا ذکر کرنے کی ترغیب اور آخر میں عاجزانہ دعا سے کلاس کا اختتام اور فیس صرف ہنسی اور مسکراہٹ ۔ ہیں نا عجیب پاکستان کے عجیب لوگ۔ مجھے حافظ صاحب سے قلبی لگاؤ اس دن ہوا جس روز کلاس کے اختتام پر ایک بزرگ حافظ صاحب کو جھولی اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے. اللہ ان پر اپنا فضل فرمائے کہ بوڑھے بچے اور جوانوں کو صحت مند، تندرست و توانا رکھنے کے لئے اپنا وقت، صلاحیتیں، آرام، سکون سب قربان کر رہے ہیں صرف اس لئے کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں ایک “صحت مند پاکستان” جی جناب! ہے نا عجیب پاکستان کی عجیب عوام. کتنی عظیم اور خوش نصیب ہیں وہ مائیں جنکی کوک سے حافظ ارشد جیسے محسنِ ملک و ملت پیدا ہوتے ہیں جو ایک صحت مند پاکستان، پارکز کو آباد اور ہاسپٹلز کو ویران بنانے کے لئے اپنے وقت کا قیمتی سرمایہ اپنی قوم کے نام کردیتے ہیں اور معاوضہ؟ صرف ایک مسکراہٹ! اسی لئے میں کہتا ہوں. پاکستان اور اسکی عوام” کتنے عجیب ہیں نا” ڈھونڈو گے اگر تم ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم. نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ. اللہ سبحان و تعالٰی کو طاقتور مومن پسند ہے بنسبت ایک کمزور مومن کے. آئیے رضائے الٰہی کے حصول کے لئے اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کو بہتر، بحال اور برقرار رکھنے کے لئے پاکستان یوگا کونسل کے زیر اہتمام تاج باغ کلب میں شمولیت اختیار کیجئیے. تحریر: عبد الوارث گل.چ

Categories: Article's