میری ایک نہایت محترم عزیزہ نے ابھی اپنی زندگی کے 25 سال ہی گزارے تھے کہ اچانک خاوند ٹرک حادثے میں جاں بحق ہوگیا، سسرال کے ناروا سلوک کی تاب نہ لاتے ہوئے اُس گھر کو خیر آباد کہا جہاں سے بابُل نے کہا تھا کہ اس گھر سے تیری لاش ہی نکلے۔ مگر باپ تو پہلے ہی داغِ مفارقت دے چکا تھا اسکو کیا خبر کہ اسکی گڑیا رانی پر کیا بیت رہی ہے؟ سَر کا سائیں کیا گیا زمانے نے یکسر منہ ہی موڑ لیا۔ خاوند کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غم، بھوک اور بیماری نے بھی کچے اور نامکمل گھر میں ڈیرے ڈال لئے ۔ کیا ہی قریب تھا کہ یتیم بچوں کی بھوک، بیماری، پرانے کپڑے اوردامن سے چمٹی ہوئی مایوسی اُسے اپنے بچوں کے ساتھ ٹرین کی کسی پٹری پر لے جاتی مگر خداوند کریم نے انہیں مسائل کو اس خاتون کی ہمت، جرأت اور مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کادرس دیا ۔ حالات نے نہ صرف دانائی، بردباری عزت و عصمت کی حفاظت کرنا سکھایا بلکہ اپنی جوانی کی تمام تر آرزوؤں اور اُمنگوں کو اس چولہے میں جھونک دیا جس پر اسکے بچوں کی روٹی پکتی تھی۔ مردوں کی طرح اپنے پانچ بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت پر ایسی جان کھپائی کہ ہوش ہی نہیں کہ وہ اپنی حیاتِ پریشان کے پچاس سال گزار چکی ہے ۔ آج سے 8 سال قبل مجھے کہنے لگی عبد الوارث بیٹا حج پر جانے کے لئے کتنے پیسے لگتے ہیں؟ میں نے کہا ماں جی 3 لاکھ کے قریب تو چہرے پر مایوسی سی چھاگئی، آنکھیں بند کیں، گردن جھکائی اور سوچنے لگ گئی غالباً کچھ حساب کتاب کررہی تھی۔ پھر بولی عمرے پر؟میں نے کہا 70 ہزار” کہنے لگی چلو اگلے سال سہی ۔میں نے سوچا شاید ماں جی نے کچھ رقم جمع کررکھی ہوگی۔ وہ ہر سال یہی سوال کرتی اور میں ہر بار بڑھی ہوئی رقم کے ساتھ بتاتا، وہ آنکھیں بند کرتی گردن جھکاتی اور سوچوں میں گم ہو جاتی اور کہتی چلو اگلے سال سہی ۔میں نے سوچا شاید ابھی بھی کچھ رقم کم ہے لیکن ہر بار کے اس انداز سے مجھے کچھ تردد سا محسوس ہوا۔ خلشِ قلب دور کرنے کے لئے اُن کے بچوں سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ ہمارے والد کے انتقال کے بعد والدہ کو T.B کا مرض لاحق ہو گیا اور اس کے باوجود وہ سخت گرمی میں 5 کلو میٹر دور سے گولیاں ٹافیاں سر پر اٹھا کر لاتی، پیک کرتی، اآرٹیفیشل جیولری میں موتی لگاتی، کپڑے سلائی کرتی، چوڑیاں اور کپڑے بیچ بیچ کر نہ صرف اپنے بچوں کا پیٹ پالا بلکہ انکی شادیاں بھی کیں اور اسی محنت مشقت کے پیسوں میں سے دس پندرہ ہزار کافی سالوں سے جمع کر رکھے ہیں کہ اللہ کے گھر جانا ہے ۔ اِس سال بھی جب اس نے پوچھا کہ عبد الوارث بیٹا اب اللہ کے گھر جانے کے کتنے پیسے لگتے ہیں؟ حسبِ معمول مگر دل پہ ہاتھ رکھ کر میں نے کہا کہ ماں جی اب تو 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب لگتے ہیں تو اِس بار آنکھیں بند کئے بغیر ہی گردن جھکا کر سوچوں میں گم ہو گئی لیکن مجھے محسوس ہوا کہ ماں جی حساب کتاب نہیں بلکہ اللہ میاں سے باتیں کررہی ہے کہ اللہ جی ہر سال میری عمر کے ساتھ ساتھ میرے گھر کے اخراجات تو بڑھتے ہیں اور ہر سال عمرہ کی رقم تو بڑھ رہی ہے مگر میرے عمرے کے لئے جمع کئے ہوئے پیسے ہیں کہ بڑھتے ہی نہیں۔جانے پھر اللہ نے اس کے دل میں کیا ڈالا کہ گردن اُٹھائی اور پھر وہی “چلو اگلے سال سہی”۔ تحریر: عبد الوارث گِل

Categories: Article's