(ایک نو مسلم کے قلم سے) انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب وہ خوش ہوتا ہے تو اکثر و بیشتر حدود اللہ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانی مذاہب نے ان تقریبات، عیدوں اور تہواروں کو پاکیزہ رکھنے کی ہمیشہ تاکید کی ہے۔لیکن حضرت انسان کی خواہش نفس کی تکمیل کے آگے جہاں مقدس الہامی کتب اور صحائف نہ بچ سکے وہاں یہ بے چاری عیدیں اور تہوار کیا چیز ہیں؟ کرسمس(Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ) اور ماس (Mass) کا مرکب ہے۔ کرائسٹ (Christ)مسیح (علیہ السلام) کو کہتے ہیں اورماس (Mass) اجتماع ، اکھٹا ہونا یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، مسیحی اجتماع یایوم میلاد مسیح علیہ السلام۔ یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا۔ اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے۔ اسے یول ڈے نیٹوئی (پیدائش کا سال)اور نوائل (پیدائشی یا یومِ پیدائش)جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ (نوائے وقت 27دسمبر 2005ء) بڑا دن بھی کرسمس کا مروجہ نام ہے ۔ یہ یوم ولادت مسیح علیہ السلام کے سلسلے میں منایا جاتا ہے کیونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے، اس لیے اسے بڑا دن کہا جاتا ہے۔ نہ صرف مسیح کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علماءمیں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ عام خیال ہے کہ سن عیسویA D جو کہ مخفف ہے Anno dominiیعنی ہمارے خدا وند کا سال مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے مگر قاموس الکتاب اور دیگر مسیحی کتب کی ورق گردانی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ولادت باسعادت 4 یا 6 ق م میں ہوئی ۔ قاموس الکتاب میں 4 ق م دی گئی ہے جبکہ مائیکل ہارٹ “The Hundred” میں چھ ق م تسلیم کرتا ہے۔مسیحی کلیساؤں میں مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کے اختلاف کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25دسمبر کو، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6جنوری کو اور ارمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے۔کرسمس کے تہوار کا 25 دسمبر ہونے کا ذِکر پہلی مرتبہ شاہِ قسطنطین (جو کہ چوتھی صدی عیسوی میں بت پرستی ترک کر کے عیسائیت میں داخل ہو گیا تھا )کے عہد میں 325عیسوی میں ہوا۔ یہ بات صحیح طور پر معلوم نہیں کہ اولین کلیسا بڑا دن مناتے بھی تھے یا نہیں یادرہے کہ مسیح علیہ السلام کی صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20مئی کو منایا جائے ۔ لیکن 25دسمبر کو پہلے پہل روم(اٹلی) میں بطور مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشن زحل Saturnaliaکو ( یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا،اس روز رنگ رلیاں خوب منائی جاتی تھیں) جو سورج کے راس الجدی پرپہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا، پسِ پشت ڈال کر اُس کی جگہ مسیح علیہ السلام کی سالگرہ منائی جائے۔(قاموس الکتاب ص147) چونکہ رومی قوم میں مسیحی تعلیمات کو جوں کا توں پہنچانا ایک مشکل بلکہ نا ممکن سی بات معلوم ہوتی تھی اسی لئے مسیحی مبلغین نے رومی مذہب وتہذیب کوChrischanise کرنے کی بجائے Chrischanity کو Romaniseکرنے کافارمولہ اپنایا جو کہ بہر حال کامیاب رہا یہی وجہ ہے کہ مسیحی مذہب میں ایک سے زیادہ عقائد و تہوار ایسے ہیں جن کا تاریخی حوالے سے جائزہ لیاجائے تو بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ (انجیل لوقا ، باب ۱ ، آیت نمبر 26 تا 31میں لِکھاہے) چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرة تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا اورفرشتہ نے اسے کہا کہ اے مریم خوف نہ کر کیوں کہ خداوند کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے اور دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہوگا اس کا نام یسوع رکھنا۔ ہم جانتے ہیں کہ جب مریم علیہ السلام کو مذکورہ بالاپیغام دیا جا رہا تھا تب Gregorian Calendar کا تو تصور بھی نہیں تھا 525عیسوی میں Dionysius Exiquus کے مشورے پر عیسوی کیلنڈر کی بنیاد رکھی گئی چنانچہ مذکورہ بالا آیت میں چھٹا مہینہ یقینا یہودی کیلنڈر کا ہی ذکر کیا گیا ہے اور یہودی کیلنڈر کا چھٹا مہینہ الول کا ہوتا ہے جو Gregorian Calendar کے مطابق اگست میں آتا ہے ۔ نیچے دیے گئے کیلنڈر سے بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی یعنی اگر مریم علیہ السلام کو یہودی چھٹے مہینے میں الول میں بشارت ملتی ہے تو نو ماہ بعد مسیح علیہ السلام کی پیدائش یہودی مہینہ ایّارمیں ہونا بنتی ہے یعنی اپریل یا مئی جو کہ عین گرمی کے موسم میں ہوتا ہے جبکہ دسمبر کے مہینے کا مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے دور کا بھی تعلق نہ ہے بعض مسیحی محققین کے نزدیک لوقا میں بیان کردہ چھٹا مہینہ دراصل الیشبع کے حمل کاچھٹا مہینہ ہے جو کہ بڑی ہی نا معقول سی بات معلوم ہوتی ہے اگر ان کی یہ بات مان بھی لی جائے تب بھی مسیح علیہ السلام کی پیدائش ماہ دسمبر نہیں بنتا کیونکہ بائبل کے مطابق ان کے حمل کی ابتداءماہ دسمبر میں ہوئی، اس لحاظ سے چھٹا مہینہ مئی ہوا اور اس میں سیدہ مریم علیہ السلام کو حمل ٹھہرا نو ماہ شمار کئے جائیں تو جنوری کا مہینہ بنتا ہے اور اگر نو ماہ کے بعد ولادت تسلیم کر لیں تو فروری کا مہینہ بنتا ہےنہ کہ دسمبر۔ 4صدیوں تک 25دسمبر تاریخ ولادت مسیح علیہ السلام نہیں سمجھی جاتی تھی ۔530ءمیں سیتھیا کا ڈایونیس اکسیگز نامی ایک راہب جو ایک منجم(Astrologer)بھی تھا، تاریخ ولادت مسیح علیہ السلام کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت 25دسمبر مقرر کی کیونکہ مسیح علیہ السلام سے پانچ صدیاں قبل 25دسمبر مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی ۔ بہت سے دیوتاؤں کا اس تاریخ پر یا اس سے ایک دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیا جا چکا تھا، چنانچہ راہب نے آفتاب پرست اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ ولادت 25دسمبر مقرر کر دی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس قوم نے ہفتے میں سورج کی عبادت کے لیے ایک دن مختص کیا ہوا تھا اور اس دن کو وہ مقدس سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس کوSunday holiday کہا جاتا ہوگا جو کہ آج عیسائیوں کے یہاں بھی مقدس اور عبادت کا دن ہے جبکہ بائبل کی تعلیمات کے مطابق پورے سات دنوں میں جو مقام و مرتبہ ہفتہ یعنی سبت کے دن کو حاصل ہے وہ کسی اور دن کونہیں۔ (واللہ اعلم ) قرآن مجید کی سورت مریم پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے : (سورہ مریم 22 تا 25) ”پھر دردِ زہ اسے (مریم علیہ السلام کو )کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ وہ کہنے لگی: اے کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بسری ہوتی۔ پھر اس (فرشتے)نے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، یقینا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گاتو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔“ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مسیح علیہ السلام کی جائے پیدائش ریاست یہودیہ کے شہر بیت اللحم میں ہوئی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، بَیتُ ا للَحَم حَیثُ وُلِدَ عَیسیٰ ۔اور اس علاقے میں موسم گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کے ذریعے اللہ نے یہ امر واضح کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کھجوریں پکنے کے مہینےجولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی نہ کہ 25دسمبر کو، جو کہ یہودیہ (موجودہ فلسطین) میں سخت سردی اور بارشوں کا مہینہ ہوتا تھا ۔ جہاں تک یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سرد موسم میں کھجوروں کا پکنا ایک معجزہ یا کوئی کرامت بھی ہو سکتا ہے تو اس پر بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت کے ظاہری سیاق و سبا ق سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس درخت پر پہلے ہی سے پھل موجود تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے صرف تنے کو ہلانے کا حکم دیاوگرنہ جو اللہ مریم کے حجرہ میں بے موسمی پھل مہیا کر سکتا ہے وہ درخت کے نیچے کیوں نہیں گرا سکتا۔ بہر حال چشمہ ایک کرامت معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہاں صاف الفاظ ہیں کہ تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور پھر یہ کہ اس چشمے کا پانی پینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر یقینا انسان جب اپنے سر پر پانی ڈالتا ہے تب ہی آنکھوں کوٹھندک محسوس ہوتی ہے یا پھر تب جب وہ اپنے منہ پر پانی بہاتا ہے تو کون ایسا میزبان ہوگا جو اپنے مہمان کو سخت سردی اور مصیبت کی حالت میں یہ کہے کہ میں نے آپ کے لئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کر دیا ہے آپ یا تو سر پر پانی ڈال کر یا پھر چہرہ دھو کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں جبکہ سخت سردی کے موسم میں تو سر یا چہرے پر پانی ڈالنا تو درکنار پانی پینے کے تصور سے سردی لگنا شروع ہو جاتی ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ مریم علیہ السلام کے حالت پریشانی میں دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لئے ٹھنڈے پانی کا چشمہ جاری کیا اور جو اسکے مصرف بتائے وہ بھی موسم گرمامیں ہی ایک نعمت معلوم ہوتے ہیں ۔(واللہ اعلم) مسلمان اور کرسمس اسلام کی روشنی میں ایسے موقع پر ایک مسلمان کو مسیحیوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو محض نمود و نمائش کے لیے اپنی تاریخ پیدائش کچھ ایسے دنوں سے منسوب کر لیتے ہیں جو قومی یا عالمی سطح پر معروف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے یوم ولادت پر مبارک باد دینا بھی خلاف واقعہ ہے جبکہ کسی ایسی شخصیت اور دن کو ماننا اور اس کے بارے میں مبارک باد پیش کرنا کہ جن کے متعلق اول تو یہ بات واضح ہے کہ ماضی میں ان تاریخوں میں سورج دیوتا ، سیّارے (Jupiter, Satum)یا دیگر بتوں کی پیدائش کا جشن منایا جاتا تھا۔ دوم مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا دن تو درکنار سن پیدائش بھی معلوم نہیں۔ سوم یہ کہ عیسائیوں کا جس دن کے بارے میں عقیدہ یہ ہو کہ آج کے دن یعنی 25دسمبر کو اللہ کا بیٹا پیدا ہوا تھا (معاذ اللہ )، ایک مسلمان کسی کو اس پر کیسے مبارک دے سکتا ہے ؟ یاد رکھیں یہ وہ بات ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ”اور انہوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنالی ہے، بلاشبہ تم ایک بہت بھاری بات (گناہ) تک آپہنچے ہو۔ قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گِر پڑیں کہ انہوں نے رحمان کے لیے کسی بیٹے کا دعویٰ کیا۔“ لہٰذا مسیحی حضرات کو مبارک باد دینا یا اس ضمن میں کسی بھی تقریب میں شرکت کرنا اسلامی نظریے کے مطابق درست نہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے کچھ نام نہاد علمائے کرام اور آج کا ماڈریٹ مسلمان خواہ مخواہ غیروں کی تہذیب و تمدن سے مرعوب نظر آتا ہے اور بے علمی و جہالت اور نام نہاد روشن خیالی کے سبب نہ صرف مبارک باد اور خوشی کا اظہار کرتاہے بلکہ مسلمان بھی اس موقع پر برپا کی جانے والی شراب و شباب کی محافل میں شریک ہو کر اظہار یکجہتی کا عملی نمونہ بھی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے قبل میری زندگی میں ایک کرسمس ایسا بھی آیا جس کو میں نے نیکی کا کام سمجھ کے خوب دھوم دھام سے منایا جس میں 80فیصدمیرے ایسے دوستوں نے شرکت کی جو مسلمان تھے اور صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ ثواب سمجھ کر کرسمس پارٹی کے اخراجات میں میری معاونت بھی کی مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور گھر میں یا دیگر مقامات پر درس قرآن کی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں تو وہی لوگ جو رات 3بجے تک میرے ساتھ کرسمس مناتے تھے ، عذر تراشتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں جس مادر پدر آزاد تہذیب کو ٹھوکر مار کر آیا تھا، آج کے کچھ مادہ پرست، حواس باختہ سیکولر قسم کے مسلمان اُسی تہذیب پر رال ٹپکا رہے ہیں۔ جس بے مثال فلسفۂ توحید ، لاجواب نظریۂ حیات اور آخرت کی لازوال کامیابی مجھے اور میرے جیسے کروڑوں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لائی، وہیں اس دین کی تعلیمات سے بے بہرہ، اپنے اسلاف سے کٹے ہوئے، بے یقینی اور نااُمیدی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے کچھ مسلمان اُس تعلیماتِ الٰہی سے نظریں چرا رہے ہیں جس کا بدل پوری کائنات میں نہیں۔ رسالہ سہ ماہی ”ایقاظ “نے اسی سلسلے میں فتاوٰی جمع و شائع کیے تھے جو ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں: فقہاءنے اس مسئلہ (غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت نہ کرنے اور مبارک باد نہ دینے ) پر اجماع نقل کیا ہے۔ امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے شام کے عیسائیوں کو باقاعدہ پابند فرمایا تھا کہ دارالاسلام میں وہ اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے؛ اور اسی پر سب صحابہؓ اور فقہا کا عمل رہا ہے، چنانچہ جس ناگوار چیز کو مسلمانوں کے سامنے آنے سے ہی روکا گیا ہو ، مسلمان کا وہیں پہنچ جانا اور شریک ہونا کیونکر روا ہونے لگا؟ اس کے علاوہ کئی روایات سے حضرت عمر ؓ کا یہ حکم نامہ بھی منقول ہے: ”عجمیوں کے اسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے روز مت جاﺅ، کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔“ (اقتضاءالصراط المستقیم از شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ) علاوہ ازیں کافروں کے تہوار میں شرکت اور مبارکباد کی ممانعت پر حنفیہ ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں۔ فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کفر کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔ (اقتضاءالصراط المستقیم ص ۴۵۳) تعلیماتِ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاءو رُسُل اس کائنات میں سب سے برگزیدہ تھے، لہٰذا وہ لوگ ہمیں ان انبیاءو رسل علیہ السلام سے محبت و عقیدت کی کیا تعلیم دیں گے جن کی اپنی کتابیں ان پر ایسے گندے اور گھناؤنے الزام لگاتی ہیں کہ پڑھنے والے کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔ یہ مقدس معصوم عن الخطا لوگ تو قیامت تک پوری انسانیت اور زندگی کے لیے رول ماڈل ہیں۔ ایک شام مسیح علیہ السلام کے نام والا فلسفہ غلط اور ناقص ہے۔ ہر صبح و شام اللہ اور اس کے دین کے نام ہونی چاہیے ۔ یہ لوگ محسنوں کی قدر اور رشتوں کا مقام ہمیں کیا بتائیں گے جو اپنے کتوں کو تو اپنے ساتھ سلاتے ہیں مگر اپنے بوڑھے والدین کوOld Home چھوڑ آتے ہیں۔ ان کے نزدیک تو تہذیب و تمدن کا مطلب ہی مذہب سے آزادی ، ناچ گانا ، مصوری ، بت تراشی و بت پرستی، مردوزن کا اختلاط، کثرت شراب نوشی، جنسی آوارگی ، بے راہ روی، ہم جنس پرستی ، سود اور لوٹ کھسوٹ ہے یعنی ہر طرح کی مادرپدر آزادی جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا: اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے جبکہ اسلام کے نزدیک لفظ تہذیب کا معنی ہی سجانا ، آراستہ کرنا، حسین بناناہے ۔ ہمارے یہاں ہر وہ عمل جزوتہذیب ہے جو ہماری شخصیت کو حسین بنائے اور ہمارے کردار کو عظیم بنائے، نیز ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے ۔یہ ہماری تہذیب ہے ۔ علم ، اخلاص، خدمت اور محبت ہماری تہذیب کے بنیادی اجزا ہیں۔ یہ ہے وہ تہذیب اور اسلام کی بے مثال تعلیم جو نہ صرف انبیاء علیہ السلام کی عصمت ، عزت اور مقام و مرتبہ کی حفاظت کاحکم دیتی ہے بلکہ ان کی اطاعت و اتباع اور ان سے ہر وقت محبت اور ہر لمحہ ان کی اطاعت کرنے کا درس دیتی ہے۔ اسلامی تہذیب وقتی طور پر جمود کا شکار ضرور ہے مگر یہ جمود اسلام کا مستقل مقدر نہیں ۔ اسلامی تہذیب کا مستقبل بھی اپنے ماضی کی طرح روشن ہے ۔ وماعلینا الاالبلاغ۔ عبدالوارث گِل (سابقہ وارث مسیح) جنرل سیکرٹری حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن اسلامک سنٹر فار نیو مسلم

Categories: Article's