چند روز قبل کشمیر کی ایک ایم- اے انگلش نو مسلم خاتون سے ملاقات ہوئی جو 2 سال قبل حلقہ بگوش اسلام ہوئیں، جیسے ہی قبول اسلام کا اعلان کیا تو مسائل ایسے آنا شروع ہوئے جیسے بلندی سے پانی۔ یہاں گھر سے بھاگ کر شادی کرلینا تو کوئی برائی نہیں لیکن دین حق کو قبول کرلینا اس معاشرے میں بہت بڑا جرم ہے، جسکی سزا اس لڑکی کو یہ ملی کہ عیسائیوں کے کھوکھلے دباؤ میں آکر حکومتی اداروں نے اسے دارالامان میں پھینک دیا، جسے اگر نیم جیل خانہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اللہ اور اسکے رسول کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے والی اس حوّا کی بیٹی کے لئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسکو کسی دینی درسگاہ میں منتقل کرکے اسکی تعلیم و تربیت و حفاظت کی جاتی تا کہ یہ امت مسلمہ کا فخر بنتی ۔ بعد ازاں کچھ خیر خواہوں کے مشورے پر شادی کرلی یہ سوچ کر کہ شاید اب ساری زندگی خاوند کی باہوں میں گزرے گی اور شاید ساس سسر کی شفقت ماں باپ کی جدائی کا زخم بھر دیگی، مگر قدرت کو ابھی کچھ اور امتحان لینے تھے۔ اس نئی نویلی دلہن کے ہاتھوں کی ابھی مہندی بھی پھیکی نہیں پڑی تھی کہ والدہ کا انتقال ہو گیا، یہ خبر اس لیے بھی بہت تکلیف دہ تھی کہ وہ بغیر ایمان کے ہی رخصت ہوگئی، ماں کی موت کو ابھی تین دن نہ گزرے تھے کہ خاوند نے طلاق دیدی۔ تقدیر نے یہ بھی نہ سوچا کہ ماں کی یاد میں رورو کر آنکھیں خشک کردینے والی یہ عورت مزید رونے کو آنسو کہاں سے لائے گی؟ شاید کچھ غم ایسے ہی ہوتے ہیں جن کا ماتم سسک سسک کر مگر روئے بغیر ہی کرنا پڑتا ہے۔ اسکو کچھ وقت کے لیے تو اپنی زندگی موت سے زیادہ پر مشقت محسوس ہورہی تھی مگر اب اسکو اپنے لئے نہیں بلکہ اسکے واسطے جینا تھا جو اسکے پیٹ میں اپنی نشو نما کے پانچ ماہ مکمل کرچکی تھی۔ اپنے گزر بسر کے لئے ملازمت کی تین ماہ بعد حالت نازک ہوگئی، جیسے کیسے وقت گزرتا رہا اور اللہ نے ایک چاند سی بیٹی عطا کردی۔ اس دوران اِس نے نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھانی! میں نے پوچھا مریم آپ کیا کرنا چاہتی ہیں؟ کہنے لگی میں دین کا علم حاصل کرنا چاہتی ہوں اور ساتھ کوئی مناسب جاب تاکہ اپنی بیٹی کی بہترین کفالت و تعلیم و تربیت کرسکوں، مگر 9 ماہ کی بچی کے ساتھ کون ملازمت دیتا ہے؟ کون مدرسہ میں داخل کرتا ہے؟ نہ جانے کن کن تنگی، تکالیف، مصائب و پریشانیوں کا سفر طے کرکے یہ یہاں پہنچی ہے اور پتہ نہیں کہ ابھی کہاں تک جانا ہے! کہنے لگی مجھے میرے اللہ پر یقین ہے کہ جو اس نے مجھ سے لے لیا ہے وہ اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ مریم اپنے اوپر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹنے کے بعد بھی اپنے رب سے راضی ہےاور مریم اسلام پر مطمئن ہے۔ اسلام کی حقانیت کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب متلاشیانِ حق کو مکتبِ اسلام سے بے مثال فلسفہِ توحید، لا جواب نظریہ حیات، اور لا زوال آخرت کی کامیابی کا درس ملتا ہے تو وہ اس متاعِ نایاب کے واسطے دنیا کی ہر مشکل اور مصیبت کو بخوشی گلے لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات بہت ہی عجیب و روح پرور منظر ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی زندگی کے شب و روز پورے لطف و سرور اور پوری شان و شوکت سے بسر کر رہا ہوتا ہے لیکن مَن کی دنیا میں بے چینی و بے قراری نے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں، اور پھر جیسے ہی من کی دنیا کو نورِ حقیقی سے منور کرتا ہے یعنی “اشھد اَن لا الٰہ الا اللہ” کہتا ہے تو مصائب کا ایک ایسا دور شروع ہو جاتا ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اگرچہ مریم کے لئے اب وہ عارضی و فانی آسائش و آرائشیں میسر نہ سہی مگروہ اطمینانِ قلب سے معمور ہے کیوں کہ اب وہ معرفت الٰہی پاچکی ہے۔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا تحریر: عبدالوارث گِل

Categories: Article's