10 سال پہلے جب اللہ نے مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی تو تھوڑے ہی عرصے بعد میرے لئے یہ بات سمجھنا قطعاً مشکل نہ تھا کہ نو مسلمین کے کیا مسائل، مصائب اور مشکلات ہوتی ہیں؟ ایک عرصہ تک انفرادی طور پر اس محاذ پر کام کرتا رہا پھر قریب سات سال قبل کچھ نیک بزرگ، اساتذہ اور اپنے محسنوں کی مدد سے حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن (سنٹر فار نیو مسلم) آرگنائزیشن قائم ہوسکی جس کا بنیادی مقصد نئے اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت اور انکے معاشی، معاشرتی و قانونی مسائل کو حل کرنا تھا۔ سات سال کا تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں نو مسلمین کے گھر، بیوی بچے، ماں باپ، خاندان، بچوں کے سکول، نوکری ایک لمحہ میں سب ختم ہوجاتا ہے اور پھر کاغذی کاروائی کے لئے اوقاف، نادرا اور ایجوکیشن بورڈ جیسے اداروں کے چکر اور بعض اوقات نو مسلمین پر انکے اپنے ہی لوگوں کی طرف سے مقدمات کی بھر مار کردی جاتی ہے یا پھر جس کے ذریعہ اسلام قبول کیا ہوتا ہے اس پر مقدمات قائم کردئیے جاتے ہیں کہ ہمارے بچے اغواء کر لئے ہیں۔ پھر پولیس تھانہ کورٹ کچہری یہ تو سب اس عاجز کے لئے معمول کی باتیں ہیں کبھی کبھی تو غیر مسلم جن کے خاندان کے لوگ اسلام قبول کرکے ہمارے اداروں میں آتے ہیں وہ مرنے مارنے کی حد تک پہنچ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کبھی دھمکی آمیز کالز آتی ہیں، کبھی میسج اور کبھی موٹر سائیکل و کار پر میرا پیچھا کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک نو مسلمہ کے کیس کے سلسلے میں ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، اپنے آفس میں ایک مجلس میں محو گفتگو تھا کہ اچانک ایک کال رسیو ہوئی میں نے سلام کیا تو ایک بھاری و پر وقار آواز میں سلام کا جواب دینے والے صاحب کہنے لگے آپ عبد الوارث بات کررہے ہیں میں نے اثبات میں جواب دیا تو گویا ہوئے میں انٹیلی جنس کے آفس سےانسپکٹر شیر دل بات کررہا ہوں مجھے آپ سے ملاقات کرنی ہے اور اگلے پندرہ منٹ تک میں آپکے آفس میں ہوں گا میں نے کہا سر ملاقات کی وجہ معلوم کرسکتا ہوں کہنے لگے کچھ سوالات پوچھنے ہیں باقی ملاقات ہوگی تو پتہ چل جائے گا۔ عام طور پر ایجنسیز کا جو خوف و ہراس ہمارے معاشرے میں پھیلایا گیا ہے میں بھی اس میں مبتلا ہو گیا اور سوچنے لگا کہ اب آفس یا آفس کے باہر سے اٹھائیں گے، کسی کال کوٹھڑی میں ڈال دیں گے، تحقیقات ہونگی، چار پانچ ماہ بعد کہیں گے آپ کلئیر ہیں اور کسی ویرانے میں چھوڑ جائیں گے۔ انہیں سوچوں میں گم تھا کہ ٹھیک پندرہ منٹ بعد سادہ لباس اونچا لمبا قد ایک رعب دار مگر پُر وقار شخصیت کے حامل صاحب آفس پہنچ چکے تھے۔ سلام دعا کے بعد وہ صاحب میرے سامنے والی نشت پر براجمان ہوگئے۔ میں نے پوچھا سر آپ ٹھنڈا لیں گے یا گرم تو نہایت اپنائیت کا تاثر دیتے ہوئے کہنے لگے چائے پلادیجئے اس بے تکلفی نے میرا آدھا خوف تو اسی وقت ختم کردیا۔ ویسے تو انویسٹیگیشن کا سلسلہ چائے سے قبل ہی شروع ہو چکا تھا مزید یہ کہ زندگی میں مجھے بھی میری پیدائش سے لیکر آج تک کے تمام حالات کا با ترتیب بیان کرنے کا موقعہ مل گیا۔ دوران گفتگو بعض مقامات پر جناب شیر دل صاحب کی جانب سے آنے والے لقموں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ جناب میرے ماضی و حال سے واقف ہی نہیں بلکہ با خوبی واقف ہیں۔ موصوف کی ذاتی زندگی کا تحقیقاتی مرحلہ ختم ہوا تو تب تک 3 گھنٹے گزر چکے تھے۔ مزید ادارہ کب کیسے اور کیوں بنانے کی ضرورت پیش آئی؟ کون لوگ اس کی معاونت کرتے ہیں؟ کتنے لوگ اس ادارہ سے منسلک ہیں اور انکا کہاں سے اور کن جماعتوں سے تعلق ہے وغیرہ وغیرہ ان تمام سوالات کے جوابات اور ڈاکومنٹ دکھانے میں تقریباً مزید 2 گھنٹے اور صرف ہوچکے تھے ان پانچ گھنٹوں کے بعد میں کہیں جانا چاہ رہا تھا اور وہ اب ایک اصل موضوع کی طرف آنا چاہ رہے تھے۔ کہنے لگے عبد الوارث صاحب آغا خانی جماعت کی طرف سے انٹیریر منسٹری کو آپ کے خلاف ایک درخواست موصول ہوئی ہے جس میں یہ الزام ہے کہ آپ کا تعلق داعش سے ہے آپ انکے لئے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔دوسرا الزام یہ کہ آغا خانی جماعت کی ایک لڑکی نے آپ کے پاس آکر اسلام قبول کیا بعدازاں آپ نے اسکو شام بھیج دیا ہے اسکے گھر والوں سے اسکا کوئی رابط نہیں اور نہ ہی کوئی اتہ پتہ ہے۔عبد الوارث صاحب آپ پریشان نہ ہوں ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں مگر اس خاتون کے متعلق آگاہ کریں کہ وہ اس وقت کہاں ہےاور کیسی ہے؟ آغا خانیت سے مسلمان ہونے والی خاتون کی پوری روداد سناتے ہوئے عاجز نے کہا کہ آغا خانی جماعت کی طرف سے یہ محض الزام ہے کہ نو مسلمہ ام ابراہیم لا پتہ ہیں انکے گھر والوں کو اسکی کوئی خبر نہیں اور یہ کہ اسکو شام بھیج دیا گیا ہے کیونکہ نیو مسلم سنٹر میں آنے کے محض ایک گھنٹے بعد انکے والد صاحب کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ آپکی بیٹی نے ادارہ میں پناہ لینے کی درخواست دی ہے آپ جب چاہیں ملنے آسکتے ہیں۔ وہ ملنے آئے اور فون پر بھی ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار بات بھی ہوئی مزید بذریعہ کورٹ بھی اطلاع کردی تھی آغا خانی جماعت کی طرف سے یہ کذب بیانی اور جھوٹا پروپیگنڈہ انسپکٹر شیر دل کے لئے باعث تعجب تھا۔ ان تمام حقائق کے پیش نظر انہوں نے ام ابراہیم سے ملنا مناسب سمجھا ام ابراہیم کو مدرسہ سے آفس آنے میں ایک گھنٹہ درکار تھا اس دوران میں نے ایک نو مسلم کی کونسلنگ کرنے کے لئے رخصت چاہی تو شیر دل صاحب کہنے لگے آپ اگر مجھے بھی ساتھ لے جائیں تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہاں کچھ نہیں بولوں گا اور میرا جو بھی تعارف کروائیں گے میں وہی بن جاؤں گا۔ دورانِ سفر میں نے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے جتنے بھی ایجنسیوں کے متعلق سوالات و اعتراضات تھے سب ایک ایک کرکے ان سے پوچھنا شروع کردیے، کہنے لگے عبدالوارث ایک بات ہمیشہ یاد رکھئیے گا کہ پاکستان کی سول و ملٹری انٹیلی جنس قوم، ملک و ملت کی محافظ ہیں اسکی دشمن نہیں۔ مگر ہمارے دشمنوں کی طرف سے ہماری نوجوان نسل میں ان حساس اداروں کے بارے میں مستقل منفی سوچ پیدا کی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سازشوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہماری قوم کو سمجھنا چاہئے کہ یہ ہماری ایجنسیوں کا مؤثر کردار ہی ہے کہ جس سے ابھی تک ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم کون سا کرمنلز کو کیفرکردار تک پہنچا رہے ہیں جبکہ ہمارا کام مجرموں کو پکڑنا یا سزا دینا نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری مستقبل میں ملک و ملت کو آنے والے خطرات و مسائل سے آگاہ کرنا اور اسکے لئے اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انٹیلی جنس کے جوانوں کی گمنام اور پوشیدہ قربانیاں ملک کی سالمیت اور ترقی میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ مگر نا صرف خفیہ اداروں کی کوششیں، قربانیاں اور کامیابیاں پوشیدہ رہتی ہیں بلکہ الٹا عوام ان اداروں کو اپنے لئے وبالِ جان سمجھ بیٹھی ہیں۔ عبد الوارث صاحب آپ کو کیوں نہیں اٹھا لیا گیا؟ آپ کیوں نہیں غائب کردیئے گئے؟ یہ اداروں کے مالکان، کمپنیاں، دفاتر، بنک دکانوں پر کام کرنے والے لوگوں کو کیوں ایجنسیاں نہیں اٹھاتیں اور جن چند ایک کو حراست میں لیا جاتا ہے ان میں 80 فیصد لوگ دشمن سازشوں میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہوتے ہیں یا تو انکا برین واش کرکے ملک کے خلاف استعمال کیا جارہا ہوتا ہے یا پھر اسکو استعمال اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ خود بھی اسکو نہیں پتہ چلتا کہ وہ ملک و ملت کی جڑوں کو کیسے کھوکھلا کرہا ہے، دشمن کا سہولت کار بن کر۔ ایک تفصیلی گفتگو کے بعد میں حیران تھا کہ آج تک میں اپنے ان محسنوں کے بارے میں کیا بد گمانیاں کرتا رہا لہذا نیو مسلم کونسلنگ کے بعد ہم نے واپس دفتر کی راہ لی لیکن شیر دل صاحب کے ساتھ جانے والا عبد الوارث واپسی پر بالکل بدل چکا تھا۔ میں نے ان صاحب کے اندر اسلام، ایمان اور وطن کی جو محبت دیکھی مجھے اپنے اندر وہ کیفیت دور دور تک محسوس نہیں ہو پارہی تھی۔آفس پہنچتے ہی اطلاع ملی کہ نو مسلمہ ام ابراہیم تشریف لاچکی ہیں۔ شیر دل صاحب نے نہایت احسن انداز سے ان سے گفتگو کا آغاز کیا اور شروع سے لیکر آخر تک ساری معلومات سماعت کیں۔ ام ابراہیم نے ان کو کہا کہ یہ محض بہتان ہے کہ مجھے بہکایا گیا ہے، داعش نیٹ ورک میں مجھے شام بھیجا جارہا ہے یا میرے گھر والوں کو اطلاع نہیں یا ان سے بات نہیں ہورہی، یہ سب کھلا جھوٹ ہے۔ شیر دل صاحب کو لڑکی کی بات سن کر سو فیصد یقین ہوگیا کہ یہ محض آغا خانی جماعت کی طرف سے اس لڑکی اور اس ادارے کے خلاف ایک سازش کی گئی تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جسکا مقصد لڑکی کو اسلام سے پلٹا کر واپس آغا خانیت میں لیجانا تھا۔ لہذا سر شیر دل کے مشورے پر ام ابراہیم اور انکے والدین کی ایک میٹنگ کروائی گئی جس میں شیر دل صاحب نے اپنے آپ کو انٹیلی جنس آفیسر شو کرنے کی بجائے ہمارے ادارے کا ایک کارکن ظاہر کیا اور ملاقات کے تحریری ثبوت، تصویریں اور کچھ دیگر شواہد جمع کرکے انٹیریر منسٹری کو موصول ہونے والی درخواست کے ساتھ لف کرکے واپس بجوادیے، یہ کہہ کر کہ حقوق الناس کا تعلق کسی کالعدم تنظیم سے ہے اور نہ ہی کسی مشکوک ایکٹیویٹی میں انکا ملوث ہونا ثابت ہوا ہے۔ آغا خانی مذہب سے اسلام قبول کرنے والی لڑکی ام ابراہیم بھی ملک سے باہر نہیں گئیں بلکہ اپنے گھر والوں سے مسلسل رابطہ میں ہیں جن کے ثبوت حاضر بھی ارسال کر دیئے گئے ہیں۔ مزید ام ابراہیم کو مخاطب کرکے کہنے لگے بیٹا عبدالوارث جو کام کرہا ہے یہ کوئی آسان کام نہیں، زندگی مشکلات سے اٹی پڑی ہے کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے عبد الوارث ہو یا نہ ہو کسی وقت کسی مشکل میں میری مدد کی ضرورت پڑے ایک کال کیجئے گا میں اپنی بیٹی کے لئے حاضر ہوجاؤں گا ۔ وہ ایک دن کی ملاقات ساری زندگی حسّاس اداروں کے کے بارے میں سوچنے کا زاویہ تبدیل کرگئی۔ میں ان صاحب کو اپنی پوری زندگی نہیں بھول سکتا جنہوں نے محض مذہبی منافرت کی بنا پر ایک گھناؤنی سازش سے مجھے اور میرے ادارے کو بچانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہوئے اس بات کا عملی ثبوت پیش کیا کہ یہ ہماری ایجنسیاں ملک و ملت کی محافظ ہیں دشمن نہیں۔ مجھے فخر ہے ان تمام ہیروز کو سلیوٹ کرنے میں جو گمنامی کی زندگی بسر کرتے ہوئے قوم، ملک و ملت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ تحریر : عبد الوارث گِل

Categories: Article's